خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 547
خطبات طاہر جلد ۸ 547 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء سے ابھی منایا ہے نعوذ بالله من ذالك آنحضرت ﷺ کی ناموس کے نام پر گو اس سے پہلے بھی جلسہ ہوتا رہا ہے بڑی بڑی دور سے بسیں بھر کے آیا کرتی تھیں سینکڑوں بسیں یہ بھرنے کی کوشش کرتے تھے۔کچھ خالی رہ جاتی تھی کچھ بھر جایا کرتی تھیں۔چھ چھ ہزار تک ان کی حاضری ہو جایا کرتی تھی۔اس جلسے پر انگریزی اخباروں نے تو تین سو حاضری بتائی ہے لیکن جماعت احمدیہ کے نمائندے جن کو میں نے کہا تھا وہ گنیں وہ چونکہ سچ بولنے کے عادی ہیں اور سچی بات ہی کرتے ہیں انہوں نے بتایا ہے کہ شروع میں ڈیڑھ سوتھی ، پھر تین سو ہوئی، پھر اور حد سے زیادہ جو حاضری ہوئی ہے وہ پانچ سو ساٹھ بستر کے لگ بھگ تھی اس سے زیادہ حاضری نہیں گئی اور ہمارے جلسے کی حاضری خدا کے فضل سے چھ سات ہزار سے بڑھ کر انگریزی اخباروں کے مطابق پندرہ ہزار تک پہنچی اور یہاں انفرادی گنتی کے لحاظ سے چودہ ہزار کچھ سو تک گئی ہے۔اب یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک حیرت انگیز نشان ہے موازنے کا۔یادرکھیں یہ وہ سال ہے جس سال کے متعلق گزشتہ جلسوں میں ان لوگوں نے مباہلے کے بعد اعلان کیا تھا کہ یہ وہ سال جس کو یہ جماعت احمدیہ کی ترقی کا سال کہہ رہے ہیں اور سو سالہ جشن کا سال کہہ رہے ہیں یہاں اس ملک میں ہم جماعت احمدیہ کو دفن کر کے دکھا ئیں گے اور اسی ملک میں ان کی ساری شان و شوکت دفن کر دی گئی ہے اور ان کے سارے دعاوی جو ہیں وہ ذلیل ورسوا اور خائب و خاسر کر کے دکھائے گئے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سب نشانات ہیں جن میں عقل ہو ، جن میں سمجھ ہو ، جنہیں بصیرت ہوان کے لئے تو یہ ایک ایسا تاریخی زمانہ ہے جو شاذ کے طور پر انسانوں کو دیکھنے میں ملتا ہے۔اس کے برعکس بعض دوسری طرف سے شور و غا ہے۔کوئی کہتا ہے کہ ہم نے مباہلے میں ان کو ہرا دیا، کوئی کہتا ہے یہ مباہلے کا چیلنج ہے وہ قبول کر کے دکھاؤ اور جھوٹی باتیں ہماری طرف منسوب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم دنیا پر یہ اثر ڈالیں گے کہ گویا مباہلے میں ہم جیت گئے ہیں۔اسی جلسے میں ایک مقرر ہیں جس کا نام لیتے ہوئے بھی گھن آتی ہے۔اس کی ایسی گندی عفونت والی طبیعت ہے کہ جب بولتا ہے گندگی پھیلاتا ہے۔اس نے یہ اعلان کیا کہ دعا یہ کرو میرے لئے کہ میں پندرہ ستمبر تک زندہ رہوں کیونکہ مرزا طاہر ( نام تو میر انہیں لیا ایک اور نجاست بولی ) اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ میں پندرہ ستمبر سے پہلے لازما مر جاؤں گا۔بالکل جھوٹ آپ لوگ وہ خطبہ سن چکے ہیں جس میں میں