خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 537 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 537

خطبات طاہر جلد ۸ 537 خطبه جمعها اراگست ۱۹۸۹ء ہیں تو وہ سلوک ہمیشہ خود غرضی پر مبنی ہوتا ہے اور جب بھی قومی طور پر ان کو یہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں کہ کسی غریب گری پڑی قوم کے ساتھ کس رنگ میں تجارت کی جائے ، کس قسم کے اقتصادی معاملات کئے جائیں تو لازما ہمیشہ ان معاملات کا فائدہ خودان کو پہنچتا ہے اور اس کے بغیر یہ کسی قسم کے معاملات رکھنے کے روادار نہیں ہوتے۔یہ بات اپنی ذات میں کوئی ایسی بری دکھائی نہیں دیتی۔ہر انسان سمجھتا ہے کہ اپنے فائدے کا سودا کرے گا۔ہر تاجر کا حق ہے کہ وہ اپنے فائدے کا سودا کرے۔مگر جب یہ مضمون آگے بڑھتا ہے تو بعض دفعہ ظلم کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔چنانچہ جاپان میں ایک اخباری نمائندے کو اسی قسم کے سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میں جاپان کی سچائی سے ضرور متاثر ہوں مگر یہ سچائی ان کی زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی نہیں ہے۔بہت سی ایسی باتیں ہیں جہاں جاپان کو اپنے نفوس کا جائزہ لینا چاہئے۔افریقہ کی مثال میں نے ان کو دی۔میں نے کہا آپ ایک تجارتی قوم ہیں آپ افریقہ سے تجارت کر رہے ہیں جس طرح آپ دوسرے ملکوں سے بھی تجارت کر رہے ہیں لیکن اس بات کو بھول رہے ہیں کہ افریقہ اقتصادی لحاظ سے اس حد تک ڈوب چکا ہے کہ اب آپ ان سے جائز منافع حاصل نہیں کر رہے بلکہ ان کا خون چوسنے لگے ہیں اور دنیا کی دوسری قوموں کے ساتھ آپ اس ظلم میں پوری طرح شامل ہو چکے ہیں اور اس بات کو بھلا رہے ہیں کہ ان کے خون کے قطرے چوستے چوستے آخر یہ قومیں مر جائیں گی۔ان میں کچھ بھی طاقت نہیں رہے گی آپ سے کچھ خریدنے کی۔اس لئے کم سے کم عقل سے کام لیں اگر انسانیت سے کام نہیں لیتے ان کو زندہ رکھنے کے لئے کچھ تو ان کی مدد کریں تو ان کے ہاں انڈسٹری قائم کریں، کچھ اور ان کو سہولتیں ایسی دیں کہ وہ قومیں زندگی کے سانس لیتی رہیں اور اپنی معصومیت میں اپنا سب کچھ آپ کے ہاتھوں لٹا نہ بیٹھیں۔جو اخباری نمائندہ تھا وہ اس علاقے کا سب سے بڑا ایک معزز اخبار تھا۔اس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ اس مضمون کو قوم کے سامنے ضرور پیش کرے گا اور پھر دوسری بعض مجالس میں بھی میں نے اس مضمون کو ان کے سامنے رکھا۔پس میں آپ کے سامنے یہ حقیقت کھولنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک نقش دوئی کا تعلق ہے وہ دنیا میں ہر جگہ کسی نہ کسی رنگ میں ملتا ہے۔بعض ترقی یافتہ قوموں کی سیاستیں خود غرض ہیں اور وہ بعض باتوں میں بے انتہا حساس ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اسی قسم کی بعض باتوں میں ان کی حس یوں