خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 536

خطبات طاہر جلد ۸ 536 خطبه جمعها الراگست ۱۹۸۹ء لئے مجھے اس مضمون کو بار بار کھول کر بیان کرنے کی ضرورت پہلے بھی پیش آئی ہے اور آج بھی میں اسی وجہ سے اسے دوبارہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔آپ کا ایک ماحول ہے جو اسلامی نہیں رہا۔جس ملک سے بھی آپ آئیں ہیں اگر وہ تیسری دنیا کا ملک ہے تو اس کی اکثریت ان برائیوں میں مبتلا ہو چکی ہے اس لئے آپ کو اپنی حفاظت غیر معمولی طور پر کرنی پڑے گی۔ظاہر و باطن ایک کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ ظاہرداری سے سفر شروع کریں اور اپنے دل پر اپنے ظاہر کے نقوش جمائیں۔آپ کو خالصہ دل میں سچا ہونا پڑے گا۔خالصہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے دلوں پر نقش کرنا ہوگا۔اس کے بعد وہ صفات پھر خود بخود پھوٹیں گی کیونکہ جس طرح مشک اپنی خوشبو دیتا ہے اسی طرح صفات باری تعالیٰ بھی اپنی خوشبو دیتی ہیں اور وہ دکھاوے کے طور پر نہیں بلکہ ایک عظیم قوت کے ساتھ انسان کے ظاہر میں ابھرنا شروع کرتی ہیں اور ایسے باخدا انسان حقیقی مواحد بنتے ہیں جو دنیا میں تو حید خالص کو قائم کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔پس اس صدی میں جماعت احمدیہ کو مسلسل یہ جد و جہد کرنی چاہئے کہ وہ اپنے دل سے نقش دوئی کو مٹائے۔خدا کے نقوش اپنے دل پر قائم کرے اور اس کے نتیجے میں تمام دنیا میں موحد خالص بن کر ظاہر ہو اور تمام دنیا کے شرک کو دور کرے اور خدا تعالیٰ کی توحید خالص کے نقوش سب دنیا کے دلوں پر جمانے کی کوشش کرے۔منافقت کا ذکر چل پڑا ہے۔میں نے کہا کہ ظاہر و باطن ایک ہونا کافی نہیں بلکہ ظاہر و باطن کا ایک ہونا تب اچھا ہے جب ظاہر بھی اچھا ہو اور باطن بھی اچھا ہولیکن بد قسمتی سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہمارے ملکوں میں منافقت بہت پائی جاتی ہے اور یہ منافقت بار یک نقوش کے طور پر ان قوموں میں بھی پائی جاتی ہے جو بظاہر سچی ہیں۔اس پہلو سے اس مضمون کو مزید کھول کر آپ کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔وہ مغربی ترقی یافتہ قو میں جو آج بالعموم سچائی پر قائم ہیں اور جن کا ظاہر و باطن جیسا بھی ہے وہ ایک دکھائی دیتا ہے ان کے اندر بھی بعض دوئی کے نقوش ملتے ہیں جن کی طرف میں ان کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔یہ خیال کر لینا کہ ان کی سچائی یا ان کا ظاہر و باطن کا ایک ہو جانا زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے یہ ایک سادگی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب اکثر مغربی قو میں تیسری دنیا کے ملکوں سے سلوک کرتی