خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 538 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 538

خطبات طاہر جلد ۸ 538 خطبه جمعها الراگست ۱۹۸۹ء لگتا ہے کہ ہمیشہ کے لئے مرچکی ہے۔انسانی قدروں کا جہاں تک تعلق ہے بعض جگہ آپ کو بہت نمایاں دکھائی دیں گی بعض ویسے ہی حالات میں وہ انسانی قدریں بالکل غائب دکھائی دیتی ہیں۔اگر پولینڈ میں، اگر رشیا میں ، اگر چائنا میں کچھ مظالم ہو جائیں تو آپ دیکھیں ان قوموں کا رد عمل کتنا زبر دست ہوتا ہے۔انسانیت کے نام پر یہ ساری دنیا میں شور مچادیتی ہیں لیکن فلسطین میں اگر اسرائیل بے انتہا مظالم کرے تو اس وقت یہ خاموشی سے چند سطحی باتیں کر کے اس بات کو بھلا دیتے ہیں۔پاکستان میں احمدیوں پر کتنے بڑے مظالم ہوں ، ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔یہاں تک ظلم کی حد ہے کہ چک سکندر میں ایک سو سے زائد مکان جلائے گئے اور بے انتہا مظالم کئے گئے اور پولیس نے اپنی موجودگی میں یہ سب کچھ کروایا اور ایک بھی اخباری نمائندہ جو مغرب سے تعلق رکھتا تھا موقع پر پہنچا بھی نہیں۔یہاں تک ان کی منتیں کی گئیں کہ یہ واقعہ سچا ہے ہم آپ کو ائیر کنڈیشنڈ کاریں مہیا کرتے ہیں۔آپ کو ہر قسم کی سہولتیں دیں گے۔آپ تو وہ لوگ ہیں جو اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر روس پہنچ جاتے ہیں، چین پہنچ جاتے ہیں کہ وہاں کا کوئی ہنگامہ آپ دیکھ سکیں اور اپنے ملکوں کو آگاہ کر سکیں۔یہاں اتنی بڑی قیامت ٹوٹ پڑی ہے اور ہم آپ کو ہر قسم کی سہولت مہیا کرتے ہیں آپ چل کے دیکھیں تو سہی۔ہر ایک نے انکار کر دیا۔ایک مغربی نمائندہ بھی چک سکندر نہیں گیا۔کسی نے ظاہری تکلیف کا بہانہ بنایا، کسی نے کوئی اور بہانہ بنا دیا۔پس نقش دوئی یہاں بھی ملتا ہے۔اس لئے وہ احمدی جو مغرب سے تعلق رکھتے ہیں یا ترقی یافتہ قوموں سے تعلق رکھتے ہیں ان کو بھی میں نصیحت کرتا ہوں کہ نقش دوئی کو مٹانے کے مضمون سے غافل نہ ہوں۔سچی توحید انسان کو ایک ہی رنگ بخشتی ہے اور نسلوں کے رنگوں کے امتیاز مٹا دینے والی ہے۔یہی کچی تو حید ہے جو تمام عالم کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کا موجب بنے گی۔اس کچی تو حید کے مضمون کو سمجھے بغیر اور اس کے نقش کو اپنے دل پر جمائے بغیر اور ہر قسم کے نقش دوئی کو دل سے مٹائے بغیر آپ نہ دنیا میں تو حید کو قائم کر سکتے ہیں نہ انسان کو امت واحدہ بنا سکتے ہیں۔اس مضمون پر آپ غور کریں گے تو آپ حیران ہو جائیں گے کہ جوں جوں اس مضمون کو سمجھ کر آپ اپنے وجود میں سرایت کرتے ہیں اسی حد تک آپ کی تفریقیں مٹنی شروع ہو جاتی ہیں ایک خدا کے رنگ میں رنگین ہو کر نہ آپ کو کالے اور گورے کی تمیز باقی رہتی ہے، نہ زرد اور سرخ کی تمیز باقی رہتی ہے، نہ شمال نہ جنوب کی،