خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 528
خطبات طاہر جلد ۸ 528 خطبه جمعها اراگست ۱۹۸۹ء اور دن بدن پہلے سے بڑھ کر گناہ گار ہوتے چلے جاتے ہیں۔پس اس خیال سے کہ ہم چونکہ تو حید خالص کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں ہرگز اس غلط منہمی میں مبتلا نہ ہوں آپ نے بہت عظیم الشان ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں اور جب تک احمدیوں کی بھاری اکثریت اپنے دلوں سے نقش دوئی مٹانے پر مستعد نہ ہو جائے اور مسلسل اس کے اس نقش دوئی کے خلاف جہاد نہ شروع کرے اس وقت تک ہم اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے اہل نہیں بن سکتے کہ تمام دنیا میں خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کریں۔ایک اور پہلو نقش دوئی کو مٹانے کا ہے وہ ہے ظاہر اور باطن کا ایک ہونا۔پہلی بات کا تعلق اس بات سے تھا کہ جو خدا آسمان کا ہے اس کو زمین کا خدا بھی سمجھا جائے اور کامل یقین کیا جائے کہ اس سے روگردانی کر کے ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے اور اس کی طرف دوڑے بغیر کسی خوف سے امن میں نہیں آسکتے اور دنیا کے خوف کو خدا کے خوف کے سامنے بے حقیقت سمجھا جائے یہاں تک کہ دنیا کا خوف اگر سر پر چڑھ بھی دوڑے تب بھی انسان اس کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دے۔یہ تو حید خالص کا ایک پہلو ہے کہ نقش دوئی کو مٹانے کا ایک طریق ہے۔دوسرا یہ ہے کہ اپنے ظاہر و باطن کو ایک کرے۔یہ مضمون بھی بڑی تفصیل کے ساتھ توجہ کا محتاج ہے۔ظاہر و باطن کو ایک کرنا بعض دفعہ غلط بھی ہو سکتا ہے بعض دفعہ اچھا بھی ہو سکتا ہے اس لئے محض یہ کہ دینا کہ کسی کا ظاہر و باطن ایک ہے یہ کافی نہیں۔بعض لوگ بڑے بدصورت ہوتے ہیں بیچارے، ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا اپنی صورت پر لیکن اس کے باوجود اس سے انکار نہیں کہ بدصورت ہوتے ہیں ان کو اگر کہا جائے کہ تمہارا ظاہر و باطن ایک ہے تو یہ تو کوئی تعریف نہیں ہوگی۔ہاں اگر کسی حسین شخص کو جس کا ظاہری حسن اگر کامل نہیں تو درجہ کمال کے قریب تر پہنچا ہو اس کو اگر یہ کہا جائے کہ تمہارا ظاہر و باطن ایک ہے تو یقینا ایک بہت بڑی تعریف ہے۔پس نقش دوئی مٹانا صرف یہ معنی نہیں رکھتا کہ ظاہر و باطن ایک ہو جائے بلکہ ظاہر و باطن کے حسن کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس مضمون کو اسلامی اصطلاح میں سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے انسان خدا کے تصور کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کے مضمون کو سمجھے اور