خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 527
خطبات طاہر جلد ۸ 527 خطبه جمعه اار اگست ۱۹۸۹ء وابستہ ہوتے ہیں اور ان کی زندگی کے بھاری بلکہ بھاری اکثریت کے فیصلے خدا کی خاطر نہیں بلکہ دنیا طلبی کی خاطر ہوتے ہیں۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ فرمایا کہ: چاہئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش دوئی تو تو حید خالص کے مضمون کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا اور یہ بتایا کہ یہ جنگ ایسی نہیں جو آسانی سے جیتی جا سکے بلکہ مسلسل اپنے دل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور یہ اس بات کی نگرانی کی ضرورت ہے کہ غیر اللہ کے نقش کچھ باقی تو نہیں رہ گئے۔یا کوئی نئے نقش تو نہیں ہیں غیر اللہ کے جواب دل پر قائم ہوتے چلے جارہے ہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ میں سے ہر ایک اگر اس نظر سے اپنے دل کا جائزہ لے گا تو اسے ضرور کوئی نہ کوئی نقش دوئی دکھائی دینے لگے گا۔صرف وہی لوگ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے دل نقش دوئی سے پاک ہو چکے ہیں جن کو یا خدا تعالیٰ اس بات سے خبر دے اور اطمینان دلائے کہ تیرا دل خدا کے سوا اب کسی اور کا نہیں رہا یا وہ بے وقوف ہیں اور وہ دھندلائی ہوئی نظر رکھنے والے لوگ ہیں جن کو خود اپنے دل کی بھی خبر نہیں ہوتی۔اس کے سوا تیسری کوئی قسم میرے علم میں نہیں۔نقش دوئی مٹتے مٹتے بھی بہت وقت لگا کرتا ہے، عمر گزر جاتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کو خدا نہ بتائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ رعونت سے پاک ہو اور خود اپنے متعلق یہ اعلان نہ کرے اور وہ نقش دوئی کو مٹاتے مٹاتے تو حید خالص کے قریب پہنچ چکا ہو یہ تو ممکن ہے مگر خدا سے علم پانے کے بغیر کسی کا یہ دعوی کرنا کہ میں توحید خالص پر قائم ہو چکا ہوں اور ہر غیر اللہ کانقش میرے دل سے مٹ چکا ہے یہ سراسر جھوٹ ہے اور تکبر کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔پس اپنے آپ کو اس پہلو سے نقش دوئی سے پاک نہ سمجھیں۔صرف ایک دن اگر آپ تفصیل سے اپنے دلوں کا معائنہ کریں اور نگرانی کریں تو آپ کو بار ہا نقش دوئی اٹھتے ہوئے دکھائی دیں گے یا جمتے ہوئے دکھائی دیں گے اگر آپ ان کو نظر انداز نہیں کرتے تو پھر وہ نقش کے طور پر دل پر رہ جائیں گے اور یہ نقش ہلکے بھی ہوتے ہیں اور گہرے بھی ہوتے ہیں۔جولوگ بار بار خدا کے سوا دوسری طاقتوں کے سامنے سر جھکا کر فیصلے کرنے کے عادی بن جاتے ہیں ان کے یہ نقوش گہرے بنتے بنتے ان کی زندگی کا جزو بن جاتے ہیں اور پھر وہ فساد کی راہوں میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں