خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 529
خطبات طاہر جلد ۸ 529 خطبه جمعه ا ار اگست ۱۹۸۹ء نقش دوئی مٹانے کی یہ دوسری منزل ہے جس کے بغیر ظاہر و باطن ایک کرنا بے معنی ہو جاتا ہے۔جب آپ خالص خدا کے ہو جاتے ہیں تو پھر اللہ کا نقش دل میں جمانا شروع کریں اور غیر اللہ کے نقوش کو ان معنوں میں مٹانا شروع کریں کہ آپ کی عادتیں ، آپ کی سوچیں ، آپ کی زندگی کا اٹھنا بیٹھنا آپ کا سونا جاگنا ، آپ کا زندہ ہونا اور مرنا سب کچھ خدا کے لئے ہو جائے اور آپ کے دل پر کامل خدا کا نقش جم جائے۔یہ وہ دوسری منزل ہے نقش دوئی کو مٹانے کی پھر اس کو ظاہر و باطن ایک کرنے میں تبدیل کیا جائے۔یہاں یہ حرکت باہر سے اندر کی طرف نہیں چلتی بلکہ اندر سے باہر کی طرف چلتی ہے۔جب دلوں پر خدا کے نقش جم جاتے ہیں تو وہ خدا انسان کی اداؤں میں اس کی حرکتوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اس کی نگاہوں میں خدا دکھائی دینے لگتا ہے۔اس کی بول چال میں خدا کی ادائیں آجاتی ہیں اور یہ مضمون وہ ہے جو اندر سے پھوٹ رہا ہوتا ہے اور انسان کے ظاہر کو اندر کے مطابق بنا رہا ہوتا ہے ورنہ وہ دوسرا رخ بہت ہی خطرناک ہے جو باہر سے شروع ہو اور اندر کی طرف حرکت کرے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان ایک دکھاوے والا جانور ہے۔انسان کی فطرت میں دکھاوا اور نفس پرستی اس حد تک داخل ہیں کہ اپنے ظاہر کو وہ ہمیشہ دنیا کے سامنے ٹھیک کر کے دکھانے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔سوائے ان بعض بد بختوں کے جو جرم کرتے کرتے ڈھیٹ ہو چکے ہوتے ہیں جن کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں رہتی کہ دنیا ہمیں کیا دیکھ رہی ہے، کیا سمجھ رہی ہے۔ان بدبختوں کے سوا جہاں تک انسانی سوسائٹی کا تعلق ہے خواہ وہ شمال کی ہو یا جنوب کی ہو ،مشرق کی ہو یا مغرب کی ہو آپ کو تمام انسانوں میں یہ قدر مشترک دکھائی دے گی کہ وہ سب کے سب اپنے ظاہر کو درست کر کے دکھانے کی کوشش کریں گے۔وہ مصنوعی حسن جو کوشش سے بنایا جاتا ہے اگر اس کا نقش دل پر جسے تو دل میں کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ظاہری حسن ہے ایک سطحی چیز ہے جو دل کی سطح پر تو قائم ہوسکتی ہے اس کے اندر ایک حسین گہرا نقش بن کر جم نہیں سکتی۔پس اس پہلو سے یا درکھیں کہ نقش دوئی کو مٹانے کا جہاد دل سے شروع ہوگا اور دل میں خدا کے نقش جمانے پڑیں گے غالباً اسی قسم کا مضمون کسی بزرگ صوفی کو سوجھا اور اس کے نتیجے میں نقش بندی فرقہ پیدا ہوا جو صوفیا کا ایک فرقہ ہے لیکن انہوں نے ایک ٹھوکر کھائی۔انہوں نے یہ خیال کیا کہ خدا کا تصور تو پوری طرح دل میں جم نہیں سکتا ہاں شیخ کا تصور دل میں جم سکتا ہے اور وہ شیخ جو