خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 480
خطبات طاہر جلد ۸ 480 خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۸۹ء ایک دم ہم نے اعلان کیا تو اُن کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ ہو۔ہم چاہتے ہیں کہ بیوی بچے بھی ساتھ آئیں اور یہ جو چیف صاحب تھے انہوں نے بڑی دلچسپ بات سنائی۔اُنہوں نے کہا کہ میں نے تو اپنے گھر جا کر اپنی بیوی سے جو کٹر عیسائی ہے یہ کہا کہ تم جو باتیں کیا کرتی تھی کہ چرچ میں فلاں پادری آیا اور میرے دل پہ اثر ہوا، فلاں پادری آیا تو دل پہ اثر ہوا تمہیں تو پتا ہی کچھ نہیں کہ روحانی اثر ہوتا کیا ہے۔اگر تم مسلمانوں کو عبادت کرتے دیکھ لو جس طرح میں دیکھ کے آیا ہوں تو تم وہم و گمان بھی نہ کرو کہ تمہارے دل پر پہلے کوئی روحانی اثر ہوا تھا۔یہ روحانی اثر ہے جو میں نے دیکھا ہے اور باوجوداس کے کہ میں مذہبی نہیں ہوں میرا دل بالکل اس اثر سے موم ہو چکا ہے۔پھر ان لوگوں نے کچھ سوال جواب کئے۔ظاہری بات ہے ایک دن میں چند دن کی نمازیں دیکھ کر مسائل تو حل نہیں ہو جایا کرتے لیکن چونکہ اُن کے دل مائل ہو چکے تھے اس لئے دو گھنٹے کی مجلس میں اُن کے سارے مسائل حل ہو گئے۔جو سوال اُنہوں نے کیا اُس کا میں نے پیار سے جواب سمجھایا اور ساتھ ساتھ وہ تصدیق کرتے رہے کہ ہاں بالکل ٹھیک ہے یہی اصل دین ہے۔خدا کی وحدانیت کا اعلان انہوں نے کیا اور پھر کہا کہ ہمارے چرچ میں تو کچھ بھی نہیں ہے اصل اگر دین اور سچائی ہے تو یہی ہے۔پھر آخر پر مجھ سے درخواست کی اور وہی میرے دل کی تمنا تھی جو اُن کی زبان سے نکلی کہ ہمیں کسی کے سپر د کر کے جائیں، ہم تو مسجد آیا کریں گے وہاں کوئی ہمیں سمجھانے والا تو ہو۔میں نے اُسی وقت مبلغ کو بلایا اُن کو کہا کہ یہ اب یہاں ہمارے پیچھے رہیں گے آپ فکر نہ کریں۔چنانچہ وہ مسجد جس پہ مجھے طلبہ تھا کہ اُس کی آبادی کے لئے سوائے مبلغ کے کوئی نہیں ہوگا۔ہمارے آنے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ نے اُس کی آبادی کے سامان کر دیئے اور چونکہ یہ لوگ بااثر ہیں اس لئے اُس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اور بھی انشاء اللہ اس سے فائدہ اٹھا ئیں گے اور ہر گز بعید نہیں کہ جب اگلی دفعہ خدا مجھے توفیق دے تو مقامی مسلمان باشندوں سے وہ مسجد بھری ہوئی ہو۔ایک ایسی جگہ جہاں کوئی بھی مسلمان نہیں، جہاں کوئی پاکستانی یا دوسرے ملکوں سے آنے والا مسلمان احمدی نہیں ہے وہاں اگر ایک دل کی گہرائی سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ اتنی جلدی پھل دیتا ہے یہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔آپ کیوں اس طرح بیقراری سے دعا نہیں کرتے اور اپنی تبلیغ کے لئے خدا سے مدد کیوں نہیں مانگتے۔اگر آپ اسی درد دل سے دعا کریں اور خدا سے مدد مانگیں تو