خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 479 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 479

خطبات طاہر جلد ۸ 479 خطبہ جمعہ ۴ ار جولائی ۱۹۸۹ء فرمایا کہ حکومت کی طرف سے ہماری سیکورٹی کے لئے جو گارڈز کا دستہ مقررتھاوہ وہاں کا نہایت ہی کہنہ مشک سیکورٹی کا ماہر دستہ ہے اور اُس کا انچارج پریذیڈنٹ گوئٹے مالا کا ذاتی حفاظتی منتظم تھا اور اُس کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ وہ ملک کے اندر بھی اور ملک سے باہر بھی جب بھی پریذیڈنٹ دورے پر جاتے ہیں تو وہ اُن کے ساتھ جاتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے از خود ہی باوجود اس کے کہ وہ عیسائی ملک ہے اور بڑا سخت کٹر عیسائی ملک یعنی کیتھولک عیسائی ملک ہے اُن کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ ان سے تعاون کرو۔چنانچہ پریذیڈنٹ نے اپنے نائب کو اور دیگر وزراء کو ہماری مسجد کے افتتاح پر بھجوایا اور خود اپنا چیف حفاظت کرنے والا منتظم جو تھا اُس کو بھجوایا اور مسلسل جب تک ہم رہے ہیں، جہاں بھی ہم گئے ہیں یہ اُن کے حفاظتی دستے ساتھ رہے۔اس ظاہری شان وشوکت سے تو ہمیں کچھ نہیں ملنا تھا۔اگر ہم اسی حالت میں یا خوش ہو کر کہ خدا نے یہ دن دکھایا، یہ عزت افزائی کی واپس آ جاتے تو چند دن کا یہ تماشہ تھا اس سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں تھی لیکن میرے دل میں تو یہ فکر تھی کہ خدایا اس کے بعد کیا ہو گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اُسی رحمت کے کرشمہ سے ایک اور چشمہ پھوڑ دیا اور وہ سارے کا سارا دستہ جو ہمارے ساتھ رہا ہے جو اٹھارہ پولیس افسران پر مشتمل تھا اور اُن کے ساتھ اپنی کاریں، اپنے موٹر سائیکل سب کچھ جماعت کے نہیں بلکہ سب اُن کے اپنے انتظام تھے اُن سب کے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی تھی اور اتنی حیرت انگیز محبت پیدا ہوئی دو تین دن کے اندر اندر کہ اُن کے دستے کے چیف نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھنی چاہتا ہوں۔چنانچہ میں نے اُس کو اجازت دی شوق سے ہمارے میجر محمود صاحب نے مجھے بتایا۔میں نے کہا ٹھیک بڑے شوق سے تشریف لائیں اُنہوں نے پیچھے نماز پڑھی اور پھر مسجد کا کمرہ جہاں نماز پڑھ رہے تھے اُس کا دروازہ کھلا رکھا تا کہ باقی سیکیورٹی والے بھی دیکھیں ، آنے جانے والے دیکھیں کہ اُن کا چیف نماز پڑھ رہا ہے۔اُن کا نتیجہ یہ نکلا کہ اُن کے دل میں بھی تحریک پیدا ہوگئی اور ان سب نے میرے آنے سے ایک دن پہلے یہ درخواست دی کہ ہمیں موقع دیا جائے ہم اسلام کے متعلق سوال کرنا چاہتے ہیں۔وہاں جب سوال و جواب ہوئے تو معلوم ہوا کہ اُن کے دل تو پہلے سے ہی پچھلے ہوئے ہیں۔اتنا غیر معمولی اثر تھا اُن پر مسلمانوں کی عبادت کا کہ آدھے سے زیادہ مسلمان وہ دیکھ کر ہی ہو چکے تھے۔چنانچہ انہوں نے اس قسم کی باتیں شروع کر دیں کہ ہمیں چند دن کا موقع دیں ہم اپنے بیوی بچوں کو سمجھا لیں تا کہ اگر