خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 481 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 481

خطبات طاہر جلد ۸ 481 خطبہ جمعہ ۴ ار جولائی ۱۹۸۹ء آپ کی تعداد تو بہت ہے۔اس وقت بھی اللہ کے فضل سے تین صفوں میں آپ اس وقت سامنے بیٹھے ہوئے ہیں اگر ہر شخص اس جذبے سے معمور ہو، اللہ کے حضور دعا کرے تو انہیں لوگوں میں سے اللہ کے فضل سے آپ کو عبادت کرنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والے مسلمان عطا کرے گا اور یہ مسجد دیکھتے دیکھتے بھر نے لگ جائے گی۔پس یہ وہ میرا پیغام ہے آپ کو بھی اور آپ کو خطاب کرتے ہوئے دنیا کے احمدیوں کو بھی کہ اب وقت آ گیا ہے جب سے ہم نئی صدی میں داخل ہوئے ہیں میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا تیزی سے قبولیت کی ہوائیں چلا رہا ہے۔نئے نئے ملکوں میں جماعت کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے۔ایسے ملکوں میں جہاں جماعت پہلے تھی لیکن خاموش اور بے اثر تھی وہاں اللہ کے فضل سے غیر معمولی طاقت جماعت کو نصیب ہو رہی ہے اور غیر معمولی احترام کی نظر سے جماعت دیکھی جانے لگی ہے۔یہ کوئی اتفاقی حادثات نہیں ہیں یہ عالمی ہوا، خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے جو ظاہر ہو رہی ہے کہ میں نے جماعت کو اب ضرور ترقی دینی ہے۔اس تقدیر کے ساتھ آپ نے انگلی ہلانی ہے۔کچھ ذراسی کوشش کرنی ہے اُس کے نتیجے میں آپ دیکھیں گے کہ کثرت سے پھل آپ کی جھولی میں گریں گے۔میں ایک دفعہ پہلے بھی یہ مثال بیان کر چکا ہوں اور میں آپ کو دوبارہ یہ مثال بیان کر کے متنبہ کرنا چاہتا ہوں۔کہتے ہیں ایک شخص گھوڑے پر کہیں جارہا تھا تو رستے میں ایک درخت کے نیچے اُس نے دو آدمیوں کو سوئے ہوئے دیکھا۔گھوڑے کی ٹاپ سے ایک شخص کی آنکھ کھل گئی اور اُس نے آواز دی کہ اوسوار بھائی ! ذرا ادھر آنا مجھے تمہاری ضرورت ہے۔وہ بیچارہ اُتر ا اُس نے ایک جگہ گھوڑا باندھا اور اُس سے جا کے پوچھا کہ بھٹی کیا بات ہے، کیا تکلیف ہے؟ اُس نے کہا تکلیف یہ ہے کہ یہ بیری جس کے نیچے ہم لیٹے ہوئے ہیں وہاں سے ایک بڑا اچھا میٹھا بیر گرا ہے جس کو میں کن اکھیوں سے دیکھ رہا ہوں میرے ساتھ ہی پڑا ہوا ہے۔ذرا تکلیف فرماؤ اور وہ اُٹھا کے میرے منہ میں ڈال دو۔اُس نے اس کو گالیاں دیں، اُس نے کہا تم بڑے ظالم بیوقوف آدمی ہو، جاہل ہو اور حد سے زیادہ نکھے۔مجھے راہ چلتے ہوئے گھوڑے سے اُتارا اور مجھے کہہ رہے ہو کہ میں بیر اٹھا کے تمہارے منہ میں ڈال دوں۔تمہیں اتنی شرم نہیں آئی کہ خود ہی اُٹھا کر وہ بیر اپنے منہ میں ڈال لو۔تو دوسرے ساتھی نے یہ باتیں سنیں تو اُس نے کہا جناب آپ کو نہیں پتا یہ اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جتنا آپ سمجھ رہے