خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 477
خطبات طاہر جلد ۸ 477 خطبہ جمعہ ۱۴ جولائی ۱۹۸۹ء مسجد کے بھرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے اور یہ مجھے اس لئے لگ رہا ہے کہ آپ کی جماعت تبلیغ میں بہت پیچھے ہے۔ جب میں گزشتہ مرتبہ یہاں آیا تھا اُس وقت جو چہرے دیکھے تھے آج اُس سے زیادہ ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ وہ چہرے ہیں جو بعد ازاں پاکستان سے یا بعض دیگر ممالک سے ہجرت کر کے آسٹریلیا آئے ہیں روحانی نشو و نما کا نتیجہ نہیں ۔ یا کوئی اولاد میں اللہ نے اتنی برکت ڈالی ہو تو اُس کی وجہ سے کچھ بچوں کے چہرے زیادہ ہو گئے ہوں تو میں کہہ نہیں سکتا لیکن بالعموم جو جماعت کی وسعت ہے وہ انتقال مکانی پر منحصر ہے۔ انتقال مکانی سے اگر ایک جگہ برکت پڑتی ہے تو دوسری جگہ کمی بھی تو آتی ہے اس لئے اُس کو رونق کہنا درست نہیں۔ رونق وہی ہے جو نشو ونما کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ جماعت احمدیہ کے بڑھنے کا جو نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھینچا ہے وہ اولاد کے بڑھنے کے نقشے کی صورت میں کھینچا ہے۔ آپ فرماتے ہیں دعاؤں میں حق پر شار ہوویں مولی کے یار ہوویں با برگ و بار ہوویں اک سے ہزار ہوویں در ثمین صفحه : ۳۸) اس طرح جماعت بڑھے کہ فرماتے ہیں جیسے باغوں میں ہو شمشاد۔ اس طرح جماعت بڑھے جس طرح بہار آئی ہو چمن پر اور باغوں میں شمشاد ہر طرف شاخیں نکال رہے ہوں اور پھول پھل رہے ہوں ۔ ایک ایک ہزار ہزار ہو جائے۔ یہ دعا ئیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی اولاد کو دی تھیں اس اولاد میں آپ سب شامل ہیں اور میں سمجھتا ہوں اوّل طور پر تمام جماعت احمد یہ ان دعاؤں کی مستحق ہے اور خاندان میں سے بھی وہی مستحق ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روحانی جماعت میں داخل ہیں ورنہ وہ اس دعا سے کوئی حصہ نہیں پاسکتے ۔ پس اک سے ہزار ہونے کے ذریعے اگر آپ اس مسجد کو بھرنے کی کوشش کریں تو دیکھتے دیکھتے یہ مسجد آپ کو چھوٹی دکھائی دے گی اور اس کے پیچھے جو وسیع جگہ ہم نے رکھی ہوئی ہے وہ اُسی مقصد کی خاطر رکھی ہے کہ جب مسجد کی وسعت کا وقت آئے تو پیچھے تنگی محسوس نہ ہو بلکہ اس مسجد کو پیچھے کی طرف بڑھایا جائے چنانچہ یہ بھی جو آپ نے ڈیزائن میں بات دیکھی ہے کہ نسبتا پتلی لیکن چوڑی بہت ہے۔ اس میں حکمت یہی تھی کہ جب بعد ازاں اس کو پیچھے بڑھایا جائے گا اگر پہلے چھوٹی ہو اور گہری ہو تو پیچھے تو گیلری نظر آئے گی