خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد ۸ 478 خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۸۹ء ساری کی ساری۔اتنا لمبا سا ایک کمرہ مستطیل سا دکھائی دے گا جو اچھا نہیں لگتا۔اب یہ مسجد ہم نے اللہ کے فضل سے چھوڑ رکھی ہے تا کہ اگر اس کو پیچھے دگنا یا تگنا بھی کیا جائے تب بھی بد زیب نظر نہیں آئے گی جس طرح مسجد مبارک ربوہ ہے یا مسجد اقصیٰ ربوہ ہے اُن کو چوڑائی کی نسبت سے گہرا کرنے کی گنجائش تھی اور اب گہرا کرنے کے باوجود بہت ہی خوبصورت لگتی ہے۔مگر اصل بات تو آپ پر ہے۔آپ اس مسجد کو خو بصورت بنائیں ، آپ اس مسجد کے لئے خدا کے حضور نمازی کھینچ کر لائیں تبلیغ کے ذریعے نشو و نما کے ذریعے کمز ور احمدیوں کو مضبوط احمدی بنا کر اس مسجد سے تعلق رکھیں تو پھر یہ بات جو بظاہر دور کی بات دکھائی دیتی ہے کہ مسجد کب بھرے گی اور کب اس سے ہمیں اس کو پھیلانے کا خیال آئے گا یہ نزدیک کی بات ہو جائے گی۔ابھی میں جب امریکہ کے دورے پر گیا تھا تو لاس انجلیز کے متعلق بھی یہی تبصرہ تھا لوگوں کا اس میں جانے سے پہلے کہ مسجد بڑی پیاری ، بڑی خوبصورت لیکن بہت وسیع ہے لیکن جب میں نے وہاں افتتاحی طور پر خطاب کیا ہے تو پہلے خطاب ہی میں مسجد خدا کے فضل سے بھری ہوئی تھی۔اس میں باہر کی جماعتوں سے آنے والے بھی شامل تھے لیکن اس کے با وجود مقامی طور پر بھی خدا کے فضل سے برکت تھی، پھیلاؤ تھا۔تبلیغ کی طرف بھی اب اس جماعت کو توجہ ہے چنانچہ وہیں اُسی روز ہی اللہ کے فضل سے بیعتیں بھی ملیں۔مردوں میں سے بھی عورتوں میں سے بھی۔پاکستانی بھی تھے اُس میں، امریکن بھی تھے اور امریکی عورتوں میں سے ایک بڑی قابل وکیل بھی تھیں اُن میں۔تو نشو و نما ہی کے ذریعے در اصل مسجد میں بھری جاتی ہیں اور جو انسان خدا کے گھر آباد کرنے کی کوشش کرتا ہے خود حاضر ہو کر، اپنے بچوں کی حاضری دلا کر ، دوستوں کو کھینچ کر لاتا ہے اور پھر تبلیغ کے ذریعے نمازیوں میں اضافہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اُس کی کوششوں میں غیر معمولی برکت عطا کرتا ہے۔لاس اینجلیز کی مسجد سے پہلے میں گوئٹے مالا گیا تھا اس کے متعلق مزید تفصیلات تو آپ کو گزشتہ خطبے کے پہنچنے سے معلوم ہو جا ئیں گی یا انشاء اللہ جلسہ سالانہ پر بعض باتیں بیان ہوں گی لیکن ایک بات میں آپ کو بتاتا ہوں کہ گوئٹے مالا میں ایک بھی احمدی مسلمان نہیں تھا اور ہم نے مسجد بنادی اور میری سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ اگر مبلغ اکیلا وہاں بیٹھا ر ہے جو مقرر کیا گیا ہے تو اتنی خوبصورت ، اتنی پیاری اور وسیع مسجد میں ایک آدمی اکیلا اذان دے گا ، وہی تکبیر کہے گا، وہی نماز پڑھے گا یہ تو کوئی اچھا نہیں لگتا اس لئے اس کا کچھ سامان ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے اُس کا ایسا انتظام