خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 476 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 476

خطبات طاہر جلد ۸ 476 خطبہ جمعہ ۴ ار جولائی ۱۹۸۹ء بڑے گھر بنایا کرتے ہیں۔تو جب خدا کے گھر کی باری آئے تو میں سمجھتا ہوں بہت زیادہ وسیع نظر کے ساتھ گھر بنانا چاہئے کیونکہ انسانی کنبے کے بڑھنے کے کاروبار اور ہوا کرتے ہیں لیکن خدا کی جماعتوں کے بڑھنے کے رنگ ڈھنگ اور ہوا کرتے ہیں۔اس لئے میں نے اصرار کیا کہ جیسا کہ میں نے عمومی طور پر جماعت میں اس پالیسی کا اعلان کر رکھا ہے کہ جب جگہ لیں تو وسیع لیں اور ہرگز اس کا فوری ضرورت کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہونا چاہئے۔مثلاً اگر کسی جگہ ایک کنال میں بھی ضرورت پوری ہو سکتی ہے تو میری ہدایت یہ ہے کہ اُس کی بجائے اگر دس ایکڑ مل سکتی ہو تو دس ایکڑ لے لیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جس رنگ میں جماعت کو دنیا میں وسعت دینا چاہتا ہے اگر آج آپ چھوٹی چھوٹی جگہیں لے کر راضی ہو گئے تو کل کو آنے والے آپ پر شکوے کریں گے کہ بڑا تیر مارا تھا، اتنی سی جگہ لے کے چلے گئے اور ہمارے لئے مشکل پڑ گئی۔اب شہر پھیل گیا ہے وہی جگہیں مہنگی ہوگئی ہیں اُس زمانے میں ذرا حوصلہ دکھاتے تو آج ہم لوگوں کو یہ مشکل نہ پڑتی۔یہ باتیں کوئی فرضی باتیں نہیں میں نے خود ایسی باتیں سنی ہیں بعض مشنوں کے متعلق۔اپنے لحاظ سے بعض لوگوں نے بڑے تیر مارے تھے لیکن اب ہم دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اتنے چھوٹے مشن ہیں کہ وہ جماعت کی ضرورت کا دسواں حصہ بھی پورا نہیں کر سکتے۔بعض دفعہ پچاسواں حصہ بھی پورا نہیں کر سکتے۔اب جرمنی میں آپ جا کر دیکھیں فرینکفرٹ کا مشن ہے وہ جماعت کی ضرورت کے مطابق لگتا ہے ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔کوئی بھی اُس کی حیثیت نہیں ہے۔حالانکہ جب بنایا گیا تھا تو وہ سالہا سال تک اُس کے بعد یوں لگتا تھا کہ شاید یہ مسجد کبھی بھرے ہی نا۔تو یہ وہ فلسفہ ہے جس کے پیش نظر میں نے اصرار کیا کہ آسٹریلیا میں جگہ بھی بڑی لی جائے اور مسجد بھی بڑی بنائی جائے۔تو آج اللہ کے فضل سے یہ جگہ جس کا رقبہ تقریباً اٹھائیس ایکڑ ہے یہ جماعت کی جو نظر آنے والی ضروریات ہیں میرے نزدیک تو اُس کے مطابق ہے۔میں تو سمجھتا ہوں خدا وہ وقت جلد لائے گا کہ جماعت ہم لوگوں کے دیکھتے دیکھتے اتنی ترقی کرے گی کہ یہ مسجد اور یہ علاقہ انشاء اللہ جماعت کی ضروریات کے مطابق ثابت ہو گا لیکن اگر آپ سمجھیں کہ یہ مبالغہ ہے یا بہت زیادہ خوابوں کی دنیا میں بسنے والی بات ہے تو آج نہیں کل نہیں تو دس پندرہ ہیں سال کے اندر انشاء اللہ یہ علاقہ جماعت کے لحاظ سے بارونق ہو جائے گا۔لیکن مسجد کا اب جہاں تک تعلق ہے ابھی مجھے لگتا ہے کہ فوری طور پر اس