خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 453
خطبات طاہر جلد ۸ 453 خطبه جمعه ۳۰ / جون ۱۹۸۹ء تھی۔ایک Barn ہے جو آپ کے سامنے ہے اب اس میں Barn والی کوئی شکل نہیں بلکہ اسے ایک با قاعدہ مسجد یا ہال کی شکل میں تبدیل کیا جارہا ہے۔خاموشی کے ساتھ بغیر کسی ریا کاری کے دن رات بعض لوگوں نے یہاں خدمتیں کی ہیں اور مجھے بھی یہاں آنے کے بعد پتا چلا کہ وہ کون لوگ تھے؟ کس طرح انہوں نے دن رات یہاں محنتیں کی ہیں، کس طرح وقار عمل کر کے اللہ تعالیٰ کے فضل۔جماعت کا بے شمار روپیہ بچایا اور پھر اس خدا کے گھر کو یا جماعت کے مرکز کو رونق دینے میں اتنا غیر معمولی حصہ لیا۔پھر وہ جو یہاں خاص طور پر قابل شکریہ ہیں یعنی ہمارے یہاں کی جماعت کے پریذیڈنٹ محم فیروز صاحب ان سے جب میں نے بات کی تو یہ عجیب بات دیکھی کہ بجائے اس کے کہ وہ فخر سے یہ کہیں کہ میں نے یہ کام کئے ہیں، یا میں نے کام کروائے ہیں۔امر واقعہ یہی ہے کہ انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔وہ بار بار میری توجہ دوسروں کی طرف مبذول کرواتے رہے کہ ٹھیک ہے میں بھی شامل ہوں لیکن اصل یہ کام کرنے والے ہیں ان کو عزت دیں، ان کے ساتھ پیار کریں، ان کے ساتھ اظہار تحسین کریں، ان کی دلداری کریں۔یہ لڑ کے ہیں جنہوں نے دن رات محنت کی ہے، یہ بوڑھے ہیں جنہوں نے دن رات محنت کی ہے، یہ ساتھ کی جماعت کے پریذیڈنٹ ہیں جو اعزاز کا حق رکھتے ہیں۔یہ ہے تقویٰ کی روح۔پس میں کیسے غیر مطمئن ہو کر یہاں سے جاسکتا ہوں جبکہ میں نے اپنی آنکھوں سے آپ کے دلوں میں تقویٰ کی علامتیں دیکھی ہیں۔ایک موقع پر میں نے کل جب مجلس ہوئی محمد فیروز صاحب کو اپنے ساتھ بٹھایا۔دوسری مجلس کے وقت انہوں نے بڑے ہی ادب اور بڑے ہی لجاجت کے ساتھ مجھ سے درخواست کی کہ اس دفعہ مجھے نہ بٹھائیے ، ہماری ساتھ کی جماعت کے پریذیڈنٹ نے بہت محنت کی ہے یہاں ان کا بھی حق ہے، ان کو بٹھائیے۔اب ظاہر بات ہے کہ خلیفہ وقت کے ساتھ بیٹھنے کی ہر دل میں تمنا ہوتی ہے، ایک محبت ہے جو مجھے ان سے ہے اُن کو مجھ سے ہے اور اس لئے ایک دوسرے کے قرب سے ہم لذت پاتے ہیں۔ایسے موقع کو اس ایثار کے ساتھ چھوڑنا ، اس خیال کے ساتھ کہ میں ہی نہیں ہوں اور بھی ہیں یہاں خدمت کرنے والے۔یہ بات صاف بتا رہی ہے کہ ان کے دل میں تقویٰ ہے اور جب دوسروں سے میں نے پوچھا تو ہر ایک نے یہی کہا کہ وہ کام کرنے والا ہے یا فلاں کام کرنے والا ہے۔اپنی ہی طرف توجہ مبذول نہیں کراتے رہے۔