خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 454
خطبات طاہر جلد ۸ 454 خطبه جمعه ۳۰ / جون ۱۹۸۹ء پس خدا نے آپ کو وہ اندرونی دولت عطا فرمائی ہے جو عظیم الشان کام سرانجام دے سکتی ہے۔یہاں صرف نظام کی کمی ہے، یہاں صرف اجتماعیت کی کمی ہے۔ایک حصہ اس کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج اس مشن کی صورت میں پورا ہو گیا ہے یعنی جب تک کوئی جگہ اکٹھے اٹھنے بیٹھنے کی نہ ہو اس وقت تک نظام پوری طرح کام نہیں کیا کرتے۔گھروں گھروں میں پھر کر پیغام دینا اور گھروں گھروں سے رابطے کر کے ایک اجتماعی شکل پیدا کرنے کی کوشش کرنا، ایک کوشش تو ہے لیکن حقیقت ہے کہ ایسی نتیجہ خیز کوشش نہیں بن سکتی جب تک کہ ایسا مرکز نہ ہو جہاں سب جگہ سے لوگ اکٹھے ہوں، ذاتی تعلق پیدا کریں، مختلف قسم کی مجالس میں وہاں اکٹھے ہوں۔اطفال کی تربیت کے لئے کلاسز لگائی جائیں، ناصرات کی تربیت کے لئے وہاں درس قائم کئے جائیں۔اسی طرح لجنہ اور خدام الاحمد یہ اس مرکز کو بار بار آ کر رونق دیں اور اپنی اجتماعی زندگی کا محور بنادیں۔یہ وہ ضروری چیز ہے جو اللہ کے فضل سے آپ کو اب مہیا ہو گئی ہے۔اگر چہ جماعتوں کے فاصلے زیادہ ہیں لیکن اگر دلوں کے فاصلے نہ ہوں تو یہ فاصلے طے ہو جایا کرتے ہیں۔اس لئے میں آپ کو اب یہ نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کے اس احسان سے پورا پورا فائدہ اٹھا ئیں۔وہ ہمارے احمدی بھائی یا بہنیں جنہوں نے پہلے اس مشن کو رونق بخشنے میں حصہ نہیں لیا وہ اب اس کمی کو باقی وقتوں میں پورا کرنے کی کوشش کریں۔وہ جن کا نظام جماعت سے واجبی سا رابطہ ہے۔احمدی ہیں جب ان کے پاس کوئی پہنچ جائے تو قربانی بھی کر دیتے ہیں مگر آزاد اور الگ رہتے ہیں۔ان کے لئے اب الگ رہنے کا کوئی عذر نہیں رہا۔ان کو چاہئے کہ وہ اپنی خدمات اپنے پریذیڈنٹ صاحبان کی خدمت میں پیش کریں اور میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو دنیاوی لحاظ سے بھی بڑی قابلیتیں رکھتی ہے۔مالی لحاظ سے بھی بعضوں کو وسعتیں ملی ہیں بعضوں کو مزید وسعتیں ملنے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں اس لئے آپ کی جماعت میں وہ تمام بنیادی صلاحیتیں موجود ہیں کہ آپ ایک عظیم جماعت کے طور پر یہاں اُبھریں اور اردگرد ماحول پر ایک نیک اثر قائم کریں۔اس پہلو سے میں آپ سے توقع رکھتا ہوں کہ خدا جب بھی مجھے دوبارہ یہاں آنے کی توفیق عطا فرمائے ، جس طرح گزشتہ آمد کے مقابل پر آج میں پہلے سے بہت زیادہ خوشی محسوس کر رہا ہوں، اسی طرح میری انگلی آمد کے وقت بھی آپ میں ایسی روحانی اور پاکیزہ تبدیلیاں پیدا ہو چکی ہوں کہ