خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 439
خطبات طاہر جلد ۸ 439 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء بھی شریک کر لیں تو وہ دولت ختم نہیں ہو سکتی۔یہ علم ان کو اس بات سے بے نیاز کر دیتا ہے کہ اس دولت میں اور شریک ہوں گے تو میرا کیا بنے گا؟ بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دولت ایسی ہے جس میں اگر آپ دوسروں کو شریک کریں گے تو آپ کی دولت بڑھے گی۔وہی لوگ خدا سے زیادہ محبت پاتے ہیں، وہی لوگ خدا کی نظر میں بلند تر مراتب حاصل کرتے چلے جاتے ہیں جو خدا کے تصور کو دوسروں میں پھیلاتے ہیں اور خدا کی دولت کو دوسروں میں بانٹتے ہیں۔پس اپنی دولت بڑھانے کا بھی تو یہاں یہ طریق ہے کہ اپنی دولت بانٹی جائے۔یہ وہ روحانی نظام ہے جس کو سمجھ کر ، جس کو جاری کر کے حقیقت میں امریکہ میں احمدیت کامیاب ہو سکتی ہے ورنہ اور کوئی ذریعہ نہیں۔اتنا خطرناک ملک ہے، یہاں کی فضاء زہریلی ہے، یہاں لوگ ظاہری Pollution کی باتیں کرتے ہیں وہ بھی بہت ہے۔اس میں شک نہیں کہ ہمسایہ ملک بھی امریکہ کی ظاہری پولوشن سے بڑے سخت نالاں ہو چکے ہیں اور یہ شکوے وہاں سے اب کھلی آواز میں سنائی دینے لگے ہیں کہ امریکہ جو انڈسٹری کے ذریعے فضا میں سلفر کا تیزاب پھیلاتا ہے وہ ہمارے ملک میں زہر کی بارش بن کے برستا ہے۔پس یہ تو ایک نظر آنے والی بیماری ہے۔وہ روحانی بیماریاں جن سے یہاں کی فضاء آلودہ ہے اتنی خطرناک ہیں اور اس طرح دوسرے ملکوں میں برس رہی ہیں کہ دور دور تک ہلاکت کا پیغام پہنچا رہی ہیں جس طرح بظاہر بارشیں زندگی کی خاطر آیا کرتی ہیں لیکن ان میں اگر تیز اب شامل ہو جائے تو وہ موت کا پیغام بن کر پانی برسا کرتا ہے۔اسی طرح بظا ہر علم اور فیض کے دوسرے ناموں پر امریکن اثرات دوسرے ملکوں میں پہنچ رہے ہوتے ہیں لیکن دراصل چونکہ ایک بے خدا تہذیب ہے اور کئی قسم کی برائیوں سے بھیگ چکی ہے پوری طرح، بوجھل ہو چکی ہے۔اس لئے جب یہ برستی ہے تو اس کے ساتھ زہر برستا ہے۔سو قسم کی بدیاں برستی ہیں اور بہت دور دور تک وہ قو میں بھی ان برائیوں سے متاثر ہو رہی ہیں جو بڑی بڑی قو میں اور آزاد قو میں ہیں اور وہ قو میں بھی جو غریب تو میں اور پسماندہ قومیں ہیں۔تو اس ملک میں رہتے ہوئے آپ کی حفاظت کیسے ہوسکتی ہے؟ یہ خیال کر لینا کہ ایک مربی مقرر کر دیا جائے جو آپ کے بچوں کو ظاہری تعلیم دے دے بچگانہ خیال ہے۔جن بچوں کو چاروں طرف سے گندہ ماحول اور زہریلا ماحول ہر وقت اپنی طرف کھینچ رہا ہے، جن بچیوں پر گلی کے ہر قدم پر ابتلاء آتا ہے، جہاں گندگی ہے، جہاں ننگا پن ہے،