خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 438
خطبات طاہر جلد ۸ 438 خطبه جمعه ۲۳ / جون ۱۹۸۹ء لئے بھی دعا کرو، ہمارے لئے بھی چارہ جوئی کرو اور ان کے خدا کے تعلق کے نشانات دیکھ کر پھر کثرت کے ساتھ ان کا حلقہ وسیع ہونے لگتا ہے اور لوگ ان کی طرف مائل ہوتے ہوتے ان کے مذہب کو قبول کرتے ہیں۔تبلیغ کا بھی سب سے بڑا اور سب سے مؤثر یہی ذریعہ ہے۔انبیاء کی قبولیت کا راز اسی بات میں ہے۔اسی وجہ سے جب بھی کوئی کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں لوگ کہتے ہیں کہ معجزہ دکھاؤ۔دلیل پہلے نہیں مانگا کرتے پہلے معجزہ مانگتے ہیں کیونکہ ہر انسان کے دل میں یہ بات جاگزین ہے کہ جو خدا کی طرف سے ہے اس کے ساتھ خدا کی تائید کے نشان ہونے چاہئیں۔پس آپ نے بھی تو اس دنیا میں یہی دعویٰ کرنا ہے اور یہی آپ کا دعویٰ ہے۔اگر یہ دعوی نہیں تو پھر احمدیت کا یہاں پھیلا نا ایک بالکل بے کار اور بے معنی کوشش ہوگی کیونکہ پیسے آپ نے ان سے مانگنے کوئی نہیں ، آپ کا اس مصیبت میں مبتلا ہونا پھر کیا فائدہ رکھتا ہے؟ آپ ہری کرشنا والوں کی طرح کے تو نہیں کہ چھٹے بجائیں اور ان سے پیسے وصول کر کے محلات کھڑے کریں۔آپ نے تو اپنے پاس سے پیسے دے کر ان کے اوپر خرچ کرنے ہیں۔کیا مقصد ہے، کیوں کرنے ہیں؟ اگر خدا کا تعلق نہیں ہے، اگر خدا کے ساتھ آپ کو محبت نہیں ہے اور خدا آپ سے پیار نہیں کرتا تو آپ کیوں ایسا کام کریں گے؟ پس اگر ایسے کام نہیں ہور ہے تو اس کے پیچھے ایک پس منظر میں ایک تکلیف دہ منظر بھی تو دکھائی دیتا ہے۔اگر کسی جماعت میں یہ آثار دکھائی نہ دیتے ہوں تو میری نظر سطح پر نہیں ٹھہر تی بلکہ میں پر لی طرف جھانک کر دیکھتا ہوں اور میں اس بارے میں سخت بے چین ہو جاتا ہوں کہ خدا کے تعلق میں کمی کیوں ہے؟ کیوں ابھی تک وہ اس خدا سے آشنا نہیں ہوئے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میرا بس چلے تو ڈھنڈورے پیٹوں دنیا میں، دفیں بجاؤں اور اس بلند آواز سے دنیا میں منادی کروں کہ لوگوں کے کان پھٹ جائیں کہ دیکھو تمہارا ایک خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات اس خدا سے وابستہ ہیں۔وہی ہماری بہشت ہے۔پس بنی نوع انسان کو اگر آپ فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں تو فائدے کی آخری شکل جس سے بلند تر فائدہ کوئی متصور نہیں ہوسکتا وہ ان کو اپنے خدا میں شریک کرنا ہے۔خدا کا تو کوئی شریک نہیں لیکن خدا کے بندے اپنے خدا میں دوسروں کو شریک کرتے چلے جاتے ہیں اور محض اپنے لئے نہیں رکھا کرتے ؟ یہ علم خدا کی ایک ایسی دولت ہے جس کے ساتھ ساری دنیا کو