خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 403
خطبات طاہر جلد ۸ 403 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء با قاعدہ جماعت احمدیہ میں داخل ہورہے ہیں۔اس سے پہلے دس ہزار تک کی خبر تو ہم نے سنی ہوئی تھی غالباً پرانے زمانے میں کہیں لیکن وہ بھی اس قسم کی تھی کہ ایک قبیلے میں جاکے اعلان کیا اور اندازہ لگایا کہ وہ دس ہزار ہوگا لیکن یہ کہ دس ہزار با قاعدہ افراد ہوں یہ واضح نہیں تھا اب پوری گنتی بتائی گئی ہے۔تیرہ ہزا ر اتنے سو افراد جماعت میں داخل ہوئے ہیں اور ہر طرف یہی نظارہ ہے۔خدیجہ نذیر صاحبہ جن کو میں نے بیعتوں کے اوپر مقرر کیا ہے جب آتی ہیں وہ ان کی بشاشت سے ان کا چہرہ کھل اٹھتا ہے۔کہتی ہیں اب تک خدا کے فضل سے وہ دگنا ہونے کا جو آپ نے کہا تھاوہ خدا تعالیٰ پورا کر کے دکھا رہا ہے۔پچھلے سال اگر چودہ ہزار تھی تو آج اٹھائیس ہزار ہو چکی ہے ایک خطے میں اور کل کی پچاس ہزار ہونے کی توقعات بڑی نمایاں ابھی سے نظر آ رہی ہیں۔تو اس طرح خدا تعالیٰ نے اس سال جماعت پر فضل کثرت سے نازل فرمائے ہیں اور بعض ایسے ممالک میں جماعت کو از سرنو زندہ کیا ہے جہاں ہمارا کوئی اختیار نہیں تھا۔میں نے اس مباہلے کی دعا میں یہ بھی کہا تھا کہ تم دیکھو گے اگر تم زندہ رہو گے۔میں نے منظور چنیوٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تم زندہ رہے تو دیکھو گے کہ جماعت مرنے کی بجائے بعض ملکوں میں از سر نو زندہ ہو جائے گی۔چنانچہ چین ایک ایسا ملک ہے جہاں خدا کے فضل سے پچھلے چند دنوں میں از سر نو جماعت زندہ ہوئی ہے اور نہ صرف یہ کہ چین میں کئی جگہ جماعت قائم ہوئی ہے بلکہ چین سے باہر جو بعض علماء نکلے تھے انہوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت کا اعلان کیا اور مجھے ان کے خط موصول ہوئے ہیں کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم واپس جائیں گے تو احمدیت کے بڑے زور سے پر چار کریں گے اور وہ اپنے علاقوں کے بڑے لوگ ہیں۔عجیب اتفاق ہے اور یہ اتفاق نہیں، خدا کی تقدیر ہے کہ ہمارے عثمان چینی صاحب کے خسر چند دن ہوئے چین سے آئے وہ اپنے علاقے کے بڑے عالم ہیں اور اسمبلی کے ممبر ہیں وہاں کی پراونشل اسمبلی کے اور جماعت کے بڑے سخت مخالف۔ان کی بیٹی مخلص احمدی ہو گئی لیکن خود مخالف۔جب یہاں تشریف لائے تو بیٹی تنگ آگئی تھی ان کی مخالفت سے میرے پاس آ کے رونے والی ہوگئی۔باپ کو ساتھ لے کے آئی کہ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا میں کروں کیا۔آپ میرے لئے خدا کے لئے دعا کریں میں تو بہت پریشانی میں مبتلا ہوگئی ہوں۔میں سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں ان کے بات پہلے ہی بات نہیں پڑتی۔ان کو میں نے کچھ سمجھایا، کچھ دعا کی اور عثمان چینی صاحب کو بھی بلالیا کہ بقیہ کسر وہ