خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 396
خطبات طاہر جلد ۸ 396 خطبه جمعه ۹ / جون ۱۹۸۹ء مباہلے کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے تو اس کے اوپر خدا تعالیٰ کیوں ایسا ایکدم غضبناک ہوا۔ اس کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہئے ، اس کی تحقیق ہونی چاہئے ۔ چنانچہ جب میں نے تحقیق کی تو ایک حیرت انگیز بات یہ معلوم ہوئی کہ انہی مولوی صاحب نے ۷ر مارچ ۱۹۸۵ء کو مجھ نے ۷ مارچ ۱۹۸۵ ء کو مجھے چیلنج دیا تھا اور وہ چیلنج چھپا ہوا روز نامہ جنگ میں موجود ہے۔ وہی شخص جو کہتا ہے کہ نبوت کے دعوئی کے سوا کوئی چیلنج دے ہی نہیں سکتا ، وہی شخص جو کہتا ہے کہ یہ بہانہ خوریاں ہیں اور یہ کوئی نشان نہیں وہ اس سے پہلے مجھے چیلنج دے چکا تھا۔ پس جب میں نے وہ چیلنج دیا معاً دونوں فریق میں مقبولیت ہو گئی اس کی۔ کیونکہ وہ پہلے ہی چیلنج دے چکا تھا اس میں ذکر کرتا ہے کہ جب وہ قبول کرے گا اسی وقت مباہلہ ہو جائے گا۔ پس یہ وجہ تھی ، خدا کی تقدیر یونہی بے وجہ کوئی کام نہیں کیا کرتی ۔ اب میں اس پس منظر میں ان کا یہ چیلنج پڑھ کر آپ کو سناتا ہوں اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس طرح خدا کی تقدیر باریک نظر سے فیصلے فرماتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : صلى الله ۔ میں مرزا طاہر احمد کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ ہمارے ساتھ اس بات پر مباہلہ کریں کہ مرزا غلام احمد سچا نبی تھا یا جھوٹا۔ ہمارا دعوئی اور ایمان ہے کہ سرور دو عالم ﷺ آخری نبی ہیں اُن کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آ نبی نہیں آئے گا اور جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا اور کذاب ہوگا۔ وہ حضرات جو بیچارے کسی لالچ وطمع کی بناء پر قادیانیت قبول کر لیتے ہیں انہیں قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے مرزا صاحب سامنے آجائیں تا کہ ایک ہی بار فیصلہ ہو جائے ۔“ یہ ۷ مارچ ۱۹۸۵ء کو ان کا چیلنج شائع ہوا ہوا تھا اور قطعاً میرے علم میں نہیں تھا لیکن جب میں نے تحقیق کروائی ، اس وجہ سے کروائی کہ یہ جس قسم کے واقعات ہیں یہ کوئی اتفاقی حادثات نظر ہی نہیں آتے ۔ صاف پتا چل رہا ہے کہ مباہلے کا کوئی اثر ہے۔ تب پتا چلا کہ وہ اس بدبختی کی وجہ سے مارا گیا ہے۔ مجھے کہتا ہے کہ جماعت کو قربانی کا بکرا نہ بناؤ خود کیوں نہیں بنتے تا کہ ایک دفعہ قصہ پاک ہو جائے ۔ پس خدا تعالیٰ نے اس کو قربانی کا بکرا بنا دیا اور وہ قصہ ہمیشہ کے لئے پاک کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر اس کی یہ ہلاکت ہمیشہ کے لئے مہر تصدیق بن کر ثبت ہو چکی ہے۔ کوئی طاقت اب دنیا میں نہیں جو اس صداقت کی گواہی کو مٹا سکے۔