خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 395

خطبات طاہر جلد ۸ 395 خطبہ جمعہ ۹ / جون ۱۹۸۹ء آپ کو یہ بتا دوں کہ دنیا میں لوگ مرتے ہی رہتے ہیں، احمدی بھی فوت ہوئے اس عرصے میں، غیر احمدی بھی کثرت کے ساتھ فوت ہوئے۔سینکڑوں احمدی ہوئے تو لکھوکھہا غیر احمدی بھی فوت ہوئے۔نہ کبھی میں نے سوچا نہ آپ کو سوچنا چاہئے کہ مباہلے کے نتیجے میں لوگ مررہے ہیں۔اس معاملے میں احتیاط ضروری ہے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر جتنا نشان دکھائے اُسی کو قبول کرنا چاہئے اور اپنی طرف سے نشان بنا بنا کر خدا کی طرف منسوب نہیں کرنے چاہئیں۔یہ ایک بہت ہی جاہلانہ طریق ہے کہ ہم سوچ سوچ کے آپ ہی خدا نے نشان نہیں دیئے ہم بنالیتے ہیں۔جس طرح مولویوں نے کیا کہ خدا نے ان کو نہیں مارا ہم مارتے ہیں۔اس کو تو ہم ایک جہالت کے طور پر رڈ کرتے ہیں۔نہایت ہی بیوقوفوں والا طریق ہے اس لئے جماعت احمدیہ کو تقویٰ کی باریک راہیں اختیار کرنی چاہئیں۔اتنی بات کریں جس کے متعلق آپ کامل یقین کے ساتھ شواہد پر قائم ہوتے ہوئے دنیا کو بتاسکیں ، خود یہ یقین رکھتے ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نشان ہے۔پس ان میں سے ایک میں نے چنا ہے بعض اور بھی ہیں جن کا ذکر بعد میں انشاء اللہ تعالیٰ یا کیا جائے گا زبانی یا شائع کیا جائے گا۔ایک مولوی محمود احمد صاحب میر پوری یہاں ہوا کرتے تھے۔سیکرٹری جنرل اسلامک شریعت کونسل برطانیہ، ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ، ایڈیٹر صراط مستقیم برمنگھم برطانیہ۔مباہلے کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے یہ اعلان شائع کیا کہ مباہلہ تو یونہی فضول بات ہے لوگ مر بھی جاتے ہیں خوامخواہ پھر احمدیوں کو عادت پڑتی ہے بتانے کی کہ یہ اس کی وجہ سے مر گیا۔ضیاء بھی اسی طرح اتفاقاً مرا ہے اور دیکھ لو احمدیوں نے کیا کہنا شروع کر دیا ہے۔اس لئے یہ لغو بات ہے اور پھر یہ بھی کہا کہ مباہلہ کے چیلنج دینا تو صرف نبیوں کا کام ہے اور مرزا طاہر احمد کا دعوی ہی نہیں نبوت کا اس لئے اس کو کیا حق ہے مباہلے کا چیلنج دینے کا۔اس کے بعد یہ واقعہ ہوا جو بظاہر حیرت انگیز تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ خدا کی تقدیر ظاہر ہوئی ہے کہ ایک ایسا حادثہ ہوا جس کے متعلق سب کو تعجب ہے کہ حادثہ ہونا چاہئے ہی نہیں تھا۔اس کی تفاصیل اخبارات میں بڑی درد ناک چھپی اور جب ان کی لاش گھر لائی گئی اور ان کے ساتھ ان کے عزیزوں کی ساس کی اور بچے وغیرہ کی تو جس جگہ وہ لاش رکھی گئی تھی وہ صحن ہی گر کر نیچے گر پڑا اور اس کے نتیجے میں پھر کثرت سے لوگ زخمی ہوئے ، واویلا پڑ گیا، کہرام مچ گیا۔تو یہ واقعہ ایسا تھا جس سے مجھے خیال ہوا کہ اس کی تحقیق کروانی چاہئے کہ اگر ایک شخص