خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 379
خطبات طاہر جلد ۸ 379 خطبہ جمعہ ۲ / جون ۱۹۸۹ء کہ ان کو خدا اتنی عقل دے کہ یہ خدا کے غضب کی بجلیوں سے بچ سکیں ور نہ جتنا یہ غصہ دکھا ئیں گے اتنا ہی خدا اور زیادہ ان پر غضبناک ہوگا اور زیادہ ان کو اپنی قہری تجلیوں کا نشانہ بنائے گا۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو کوئی دنیا میں تبدیل نہیں کر سکتا۔جب احمدی پر ظلم ہوتا ہے مجھے ان کی تکلیف ہوتی ہے، ان کے تصور سے تکلیف ہوتی ہے کہ انہوں نے خدا کے غضب کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے لئے بلایا ہے خود اور جب خود خدا کے غضب کو کوئی قوم بلاوے دینے لگے تو پھر بسا اوقات وہ غضب نازل ہوتا ہے۔خدا غضب میں دھیما ضرور ہے لیکن اس قسم کے باغیانہ رویے کو کبھی قبول نہیں کیا کرتا اور ایسے باغیانہ رویے کی خطرناک سزائیں دیتا ہے جو قوموں کو عبرت کا نشان بنا دیا کرتی ہیں۔اسی لئے مجھے تو اس بات کا ڈر ہے۔بہر حال آپ دعائیں کریں اور جہاں تک پاکستان کے احمدیوں کا تعلق ہے میں ان کو متوجہ کرتا ہوں جس حد تک ان کو توفیق ہے وہ اپنے دفاع اور اپنی حفاظت کے انتظامات کریں اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے وہ ان کے فتنے سے بچنے کے لئے پوری طرح مستعد ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے اور ان کو اپنی امان میں رکھے کیونکہ انسانی دفاع کی کوششیں خصوصاً کمزور لوگوں کی دفاعی کوششیں جب تک خدا کا فضل شامل حال نہ ہو کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔پس وہ دعا ئیں بھی کر رہے ہیں اور ظاہری کوششیں بھی اختیار کریں گے۔آپ خصوصیت کے ساتھ دعاؤں کے ذریعے اپنے ان بھائیوں کی مدد کریں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ ان حالات کو تبدیل کر دے اور دن بدن روشنی بڑھنی شروع ہو اور اندھیرے پیچھے ہٹنے شروع ہو جا ئیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ میں نے خطبے میں ۲۵ مئی کہنا تھا ۲۵ / جون کہہ دیا غلطی سے۔منصوبہ ۲۵ رمئی کا تھا اور اب وہ ملتوی کر کے انہوں نے ۹ یا ۰ ارجون پر ڈال دیا ہے۔بہر حال اصل ہمارا مولیٰ نگران خدا ہے۔یہ بات میں آپ کو اچھی طرح سمجھا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بار بار یہ مضمون فرماتا ہے کہ وہ لوگ مکر کرتے ہیں، وہ لوگ تدبیر کرتے ہیں لیکن اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے، اللہ بہترین مکر کرنے والا ہے۔اس لئے آپ یہ خیال نہ کریں کہ خدا آپ کو چھوڑ دے گا۔ہمارے تصور بھی ان باتوں تک نہیں پہنچ سکتے جو خدا کی تقدیر ہمارے لئے کر رہی ہے۔حیرت انگیز انتظام کر رہی ہوتی ہے اچانک یہ کچھ اور سوچ کر اٹھتے ہیں اور کوئی اور آفت پڑ جاتی ہے جو ان کی توجہ کو