خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 346

خطبات طاہر جلد ۸ 346 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء والے تھے اس لئے اس عظیم واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا گیا کہ اس راہنما کے تم متبع ہونے کا دعوی کرتے ہو جس نے خدا کے تقویٰ کا حق ادا کر دیا ہے اور جس کی وفات کامل اسلام پر ہوئی۔پس تمہیں بھی چاہئے کہ تم اس کی پیروی کی کوشش کرو۔پس دوسری آیت میں مَا اسْتَطَعْتُم سے مراد یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے جس طرح تقویٰ کا کامل حق ادا کیا اس طرح تم وہ حق ادا کرنے کی کوشش کرو جہاں تک توفیق ہے۔پس ایک آیت دوسری پر روشنی ڈال رہی ہے نہ کہ متضاد ہے اور مراد یہ ہے کہ تم لوگوں کی استطاعتیں مختلف ہیں۔حَقَّ تُقيّه اصل مضمون ہے جہاں جا کر بات کامل ہوتی ہے۔تم میں سے ہر ایک کو یہ توفیق نہیں مل سکتی بلکہ شاذ ہی کسی کو یہ توفیق مل سکتی ہے کہ آنحضرت علی کی طرح تقویٰ کا حق ادا کر سکو۔پس تم پر یہ فرض ضرور ہے کہ یہ حق ادا کرنے کی کوشش کرتے رہو اور اس حالت میں جو بھی مرے گا وہ اس آیت کے دوسرے حصے کو بھی پورا کرنے والا ہو گا کہ لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ يعنى مسْلِمُونَ کا ایک معنی المسلمون ہے یعنی کامل طور پر مسلمان اور ایک معنی ہے اطاعت اور فرمانبرداری صلى الله کی حالت میں جان دینے والے۔پس مراد یہ ہے کہ اگر تم حضور اکرم علی ، یعنی محمد مصطفیٰ لے کے تقوی کونمونہ بناتے ہوئے ہمیشہ اس تقویٰ کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہو گے تو ایسی صورت میں جس حالت میں تم جان دو گے وہی حالت تمہاری مسلم کی حالت ہوگی اور تم خدا کے مطیع اور فرمانبردار بندوں میں شمار ہو گے۔اب جہاں تک وفات کے مضمون کا تعلق ہے اس کے بعد لازماً ایسے خطرات قوموں کو در پیش آتے ہیں جس میں افتراق اور پھوٹ پڑنے کے ابتلا ءسامنے آئیں اور نفاق پیدا ہوں اور قو میں جو ایک ہاتھ پر اکٹھی ہوئی ہیں پھر منتشر ہونے لگیں۔ہر بڑے راہنما کے وصال کے بعد ہر قوم کو یہ خطرات لاحق ہوا کرتے ہیں اور مذہبی دنیا میں خصوصیت کے ساتھ انبیاء کے گزرنے کے بعد قوموں کو بڑے ابتلا آیا کرتے ہیں کیونکہ اس شان کا راہنما پھر دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔فوراً بعدا اتنا بڑا خلاء دکھائی دیتا ہے کہ قومیں جس طرح کوئی بعض شہر یا ملک زلزلوں کا شکار ہو جایا کرتے ہیں اس طرح روحانی طور پر قوموں پر ایک زلزلہ آ جاتا ہے۔تو اس کے معا بعد ایسی ہی نصیحت ہونی چاہئے تھی کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے وصال کے بعد تم لوگ افتراق کا شکار نہ ہو جانا بلکہ مضبوطی سے خدا