خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 347
خطبات طاہر جلد ۸ 347 خطبه جمعه ۲۶ رمئی ۱۹۸۹ء کی رسی کو تھام لینا۔پس یہ ایسا ہی کیا گیا اور ان آیات میں اس مضمون کے بعد یہی مضمون باندھا گیا فرمایا وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا دنیا کا سب سے بڑا متقی جو تقویٰ میں درجہ کمال کو پہنچنے والا تھا وہ کامل اسلام کی حالت میں خدا کے حضور حاضر ہونے والا ہے۔تم اگر افتراق سے بچنا چاہتے ہو، اگر چاہتے ہو کہ اس کے وصال کے بعد وہ بلائیں تمہیں گھیر نہ لیں جو عموماً ایسے حالات میں قوموں کو گھیر لیا کرتی ہیں تو ایک ہی علاج ہے کہ ویسا تقویٰ پکڑنے ، ویسے تقویٰ کے رنگ اختیار کرنے کی کوشش کرو اور اس کے بعد اس کے نظام کی رسی کو اور وہ قدرت ثانیہ جو اس کے بعد ظاہر ہونے والی ہے اس کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔تقویٰ کا بھی یہی طریق ہے، تقویٰ اختیار کرنے کا بھی یہی رنگ ہے اور اختلاف سے بچنے کا بھی یہی گر ہے۔پس فرمایا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تمام لو وَلَا تَفَرَّقُوا اور ہر گز افتراق نہ کرو۔وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمُ اِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ اس نعمت کے ذکر کا وقت اس وقت آتا ہے جب وہ نعمت ہاتھ سے جا رہی ہوتی ہے۔پس نعمت سے مراد نبوت ہے اور حبل اللہ سے مراد نبوت بھی ہے کیونکہ اول حبل اللہ وہی ہوتی ہے لیکن اس مناسبت سے اس مضمون کے تسلسل میں یہاں خلافت مراد ہے۔فرمایا اس نعمت کو یاد کرو یعنی محمد مصطفی ﷺ جو نبوت لے کر آئے اور آپ بذات خود ایک مجسم نعمت تھے۔اِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ کہ جب تم لوگ شدید دشمنیوں میں مبتلا تھے۔ایک دوسرے کے ساتھ سخت عنادر رکھتے تھے اور بھائی بھائی سے بٹا ہوا تھا اس وقت اس خدا کی نعمت نے تمہیں ایک ہاتھ پر اکٹھا کر دیا۔پس آنحضرت ﷺ کی زندگی میں کسی اختلاف کا خطرہ نہیں تھا۔نہ حضور اکرم ﷺ کی زندگی میں کوئی اختلاف دکھائی دیتا ہے۔یہاں مفسرین نے ایک اور ٹھوکر کھائی ہے اور جیسا کہ عادت پڑ چکی ہے اکثر مفسرین کو وہ فورا آیت کی شان نزول ڈھونڈتے ہیں اور شان نزول اگر نہ ملے تو بعض بنانے والے وضعی شان نزول بنا لیا کرتے ہیں۔چنانچہ وہ فتنہ جو آجکل دنیا میں پھیلا ہوا ہے سلمان رشدی کے نام پر وہ اسی قسم کی مصنوعی شان نزول کے نتیجے میں پھیلا ہوا ہے۔یعنی آیت کا انطباق اور حالات پر ہو رہا ہے اور مستقل نوعیت کی آیت ہے اس کو ایک فرضی واقعہ کے ساتھ باندھ کر ایک نہایت ہی فتنے کا مضمون پیدا کر دیا گیا۔