خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 340
خطبات طاہر جلد ۸ 340 خطبه جمعه ۹ ارمئی ۱۹۸۹ء فرما دی اور باوجود بار بار ان کے لکھنے کے اور اس انداز میں شکوے آ رہے تھے کہ گویا میری ساری محنتیں ضائع گئیں آپ نے کچھ بھی نہیں کیا۔میں نے کہا جن سے میں جواب لکھوا رہا ہوں ان کو میں نے ابھی جواب دے دیا کہ اگر کوئی اچھا نقطہ ہے تو لے لیں اس میں سے اور جو جواب مجھے خود سمجھا رہا ہے وہ میں خطبوں میں دے رہا ہوں مجھے کیا ضرورت ہے آپ کی کتاب شائع کرنے کی؟ پھر یہ بالآخر بہائی ہو گئے اور ربوہ سے بھاگ کر کسی قصبے میں جا کر بہائیت کا اعلان کیا اور ان کی بیوی کا رونے پیٹنے کا دردناک خط آیا کہ کیا قیامت آگئی ہے۔اس پر یا ان کی طرف سے لکھا ہوا تھا ، مجھے اب یاد نہیں بیوی کا خط ہے یا انہوں نے لکھا تھا کہ میری بیوی کا یہ رد عمل ہے اور گھر میں ایک کہرام مچا ہوا ہے اور وہ دعائیں کر رہی ہے۔میں نے ان کو لکھا میں نے کہا میں بھی آپ کے لئے دعا کرتا ہوں، آپ بیمار ہیں جو کچھ بھی ہے لیکن میں نہیں چاہتا کہ آپ کا حقیقی اور دائمی نقصان ہو کیونکہ جس خاندان سے آپ تعلق رکھتے ہیں ان میں نیکیاں تھیں۔آپ کے والد نے بڑی قربانیاں دی ہوئی ہیں احمدیت کے لئے ، آپ کی والدہ نیک خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ان کے بھائی واقف زندگی ہیں یعنی اس کے ماموں اور لمبے عرصے سے وفا سے سلسلے کی خدمت کر رہے ہیں۔میں نے کہا میں نہیں چاہتا کہ آپ کا نقصان ہواس لئے میں بھی دعا کر رہا ہوں اللہ آپ کو ہدایت دے۔کچھ دنوں کے بعد خط آیا کہ مجھے ہدایت مل گئی ہے اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ بہائیت جھوٹی تھی اور اب میں احمدیت میں دوبارہ شامل ہونا چاہتا ہوں مجھے شامل کر لیا جائے۔تو میں نے دعائیہ خط لکھا میں نے کہا شامل ہو جائیں لیکن یا درکھیں کہ ایمان کے بعد ارتداد اور ارتداد کے بعد پھر ایمان اور پھر ارتداداگر ہو اور اسی حالت میں انسان ہلاک ہو تو بہت ہی بڑا خطرناک سودا ہے۔اللہ آپ کو استقامت بخشے، سچے دل سے ایمان نصیب فرمائے۔ساتھ ہی انہوں نے مجھے یہ پیشکش کر دی کہ میں اب بہائیت کے خلاف ایک عظیم الشان کتاب لکھنا چاہتا ہوں اور میں نے پہلے اس سے لکھا تھا کہ بتائیں کونسا آپ کا عالم ہے جو میرے مقابل پر احمدیت کو سچا دکھائے میں بہائیت کے متعلق مناظرہ کروں گا اور وہ احمدیت کے متعلق مناظرہ کرے اور میرا چینج ہے جس کو چاہیں میرے مقابل پر لے آئیں۔شفیع اشرف صاحب کا نام خاص طور پر تھا۔میں نے کہا تمہاری کوئی حیثیت ہی نہیں۔بہائیت کی کوئی حیثیت نہیں۔مجھے کوئی ضرورت نہیں اس قسم کے تم سے مناظرے کروانے کی اور جب دوبارہ احمدیت قبول کی تو مجھے لکھا