خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 339

خطبات طاہر جلد ۸ 339 خطبه جمعه ۹ ارمئی ۱۹۸۹ء شدت کے ساتھ کوشش کی۔اللہ تعالیٰ شفیع اشرف صاحب مرحوم کو جزا دے وہ بڑے زیرک انسان تھے۔بحیثیت ناظر امور عامہ وہ مجھے رپورٹیں کرتے رہے کہ یہ شخص شدید منافق ہے اور کوئی چال ہے اور کوئی سازش ہے اس لئے اس کو او پر نہیں آنے دینا اور یہ شدید ان کے خلاف گالیوں کے خط لکھتا رہا اور شکایتیں کرتا رہا کہ ایسے ایسے لوگوں کی وجہ سے جماعت ٹھوکریں کھاتی ہے اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔کس قسم کے ناظر تو نے بنائے ہوئے ہیں جو تقویٰ اور انصاف سے خالی ہیں وہ اچھے لوگوں کو آگے نہیں آنے دیتے اور وحید قریشی کا خیال تھا کہ اس قسم کی یکطرفہ باتوں سے وہ مجھے بیوقوف بنالے گا، گمراہ کر لے گا اور میں شفیع اشرف صاحب کو حکم دوں گا کہ فوری طور پر اس کو جماعت میں بہت آگے لے آیا جائے اور اس کے سپرد یہ کر دیا جائے۔یہ تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا لیکن ایک بات میں مجھے شفیع اشرف صاحب سے اختلاف تھا اور میں نے ان سے صاف کہا کہ یہ بات میں آپ کی نہیں مانوں گا۔جہاں غربت کی وجہ سے مالی مدد کی ضرورت تھی وہاں میں نے امور عامہ کو کہا کہ آپ منافق سمجھتے ہیں مجھے بھی یہی غالب گمان ہے کہ یہ چالیس منافقانہ ہیں لیکن منافق اگر غریب ہو تو اس کا انسانی حق بہر حال ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔اس لئے آپ کے مشورے کے خلاف میں جانتے ہوئے کہ یہ کیا ہے اور کیا کر رہا ہے۔میں اس کی مدد ضرور کروں گا۔چنانچہ جب ضرورت پڑی اس کی مدد کی گئی۔پھر اس شخص نے مجھ پر براہ راست رعب ڈالنے کے لئے پاکستان حکومت کی طرف سے جو الزامات کے شاخسانے چھوڑے گئے تھے ان کے خلاف ایک نہایت ہی مؤثر جواب لکھا اور ایک بڑی موٹی کتاب لکھی اور مجھے بھجوائی کہ آپ میرے نام سے اس کو شائع کروا دیں تا کہ دنیا کو پتا لگے کہ احمدیت کے کیسے کیسے مجاہدین ہیں۔اب چونکہ امور عامہ کی طرف سے ان کے متعلق تفصیلی رپورٹیں تھیں میں نے یہی فیصلہ کیا کہ اس نام پر کوئی کتاب شائع نہیں کی جائے گی۔اب اندازہ کریں کہ اگر یہ شائع ہو جاتی تو پھر انہوں نے بہائیوں نے اعلان کرنا تھا کیونکہ اطلاعیں ایسی مل رہی تھیں کہ پہلے سے ان کا وہاں واسطہ تھا اور ربوہ میں شرارت کے اڈے بنائے جار ہے ہیں۔انہوں نے اعلان کر دینا تھا کہ اتنا عظیم الشان عالم دین جس نے حکومت پاکستان کا جواب لکھا تھا بالآخر بہائی ہو گیا ہے۔اے مسلم احمدی نوجوانو! آ جاؤ اس کے پیچھے چھوڑ دو احمدیت کو۔اس سے زیادہ اور کون احمد بیت کو جان سکتا ہے۔یہ تھی اصل خباثت اور سازش جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی ہماری حفاظت