خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 327

خطبات طاہر جلد ۸ 327 خطبه جمعه ۹ ارمکی ۱۹۸۹ء بڑے بڑے عظیم الشان جلسے ہوئے اور بہت بہت مال اور دولت بھی ان پر نچھاور کئے گئے لیکن انجام بالآخر ایسا ہوا کہ جب وہ بوڑھے ہو گئے تو سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔جب وہ فالج سے بیمار ہو گئے اور حالت یہ تھی کہ بمشکل زبان چلتی تھی اور جسم فالج زدہ تھا۔تو احمدی تو ان کی عیادت کے لئے جاتے تھے اور ان کو پوچھتے تھے اور پوچھا کرتے تھے کہ کوئی ضرورت ہو مدد کی تو ہمیں بتائیں لیکن باقی سارے جو ان کو مجاہد اعظم کہتے تھے اور آج بھی کہہ رہے ہیں ان کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔چنانچہ مولانا غلام باری صاحب سیف نے واقعہ ایک مضمون کی صورت میں لکھا ہے اور بارہا سنایا بھی کہ وہ ایک دفعہ خود اپنے بعض ساتھیوں کو لے کر عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی عیادت کے لئے گئے اور ان سے حال پوچھا تو انہوں نے اپنی زبان نکال کر انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کتیا جب تک بھونکتی رہی اس وقت تک میں قوم سے داد پا تا رہا۔جب اس کتیا میں بھونکنے کی سکت باقی نہیں رہی تو سب نے مجھے کو چھوڑ دیا۔ایسے عبرتناک الفاظ انہوں نے اپنے متعلق کہے، اپنے منہ سے زبان کو کتیا کہہ کر فصیح و بلیغ تو تھے اور جس قسم کی فصاحت و بلاغت تھی اس کا اظہار اسی ایک فکرے سے ہو جاتا ہے لیکن اس میں ایک بڑا بھاری عبرت کا نشان ہے۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَنُ إِلَّا غُرُورًا شیطان وعدے تو دیتا ہے اور دے گا لیکن دھو کے اور فریب کے سوا اس کے وعدوں کی کوئی حقیقت نہیں۔وفا اگر ہے تو خدا میں ہے جو تمہارا مولیٰ ہے۔خدا کے سوا کسی میں کوئی وفا نہیں۔یہ کہنے کے بعد کتنے عزم اور کتنی شان کے ساتھ مومنوں سے اپنی توقعات کا اظہار فرماتا ہے۔یہ ہے اس آیت کی شان جس پر دل فدا ہو جاتا ہے خدا کی عظمت اور اس کے جلال اور اس کے جمال کے حضور فرماتا ہے اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ - اے بیوقوف ،اے دھوکہ دینے والے خود کس دھو کے میں مبتلا ہو تجھے کیا خبر میرے بندے ہیں کیا ؟ وہ مجھ سے کبھی بے وفائی نہیں کریں گے۔وہ کبھی میرا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔جو چاہتا ہے کر گز رمیرے بندے میرے رہیں گے تجھے ان پر کسی قسم کا کوئی غلبہ نصیب نہیں ہو گا۔سلطان کو نکرہ رکھ کر یہ شان پیدا کر دی گئی کہ مضمون کو بہت وسیع فرما دیا۔مطلب یہ ہے کہ پورا غلبہ تو الگ دور کی بات ہے تجھے میرے محبت کرنے والے مجھ پر فدا ہونے والے، مجھ پر ایمان رکھنے والے بندوں پر ادنی سا غلبہ بھی نصیب نہیں ہو گا۔کبھی تیرے نہیں ہو سکتے۔وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلًا اور اسے محمد تیرا رب