خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 326

خطبات طاہر جلد ۸ 326 خطبه جمعه ۹ ارمکی ۱۹۸۹ء کثرت کے ساتھ پھیلے ہوئے فسادات بر پا ہوں جیسے ۱۹۵۳ء میں یا اس سے پہلے ۳۳ء،۳۴ء وغیرہ میں برپا ہوتے رہے۔اس کے جواب میں میں نے غور کیا کہ میں ان کو کیا پیغام دوں تو میری توجہ اس آیت کی طرف مبذول ہوئی۔مجھے خیال آیا کہ خدا تعالیٰ نے تو ایسے موقع پر وکالت اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔اب تو خدا اور شیطان کا مقابلہ ہے۔پس بجائے اس کے کہ میں اپنی آواز میں آپ کی نمائندگی کر کے اس دشمن کو کوئی پیغام دوں۔میں نے سوچا کہ اسی آیت کی رو سے اسی آیت کے الفاظ میں جو خدا تعالیٰ نے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ہی موقع کے لئے صادر فرمائی ہے، ایسے ہی موقعوں پر اطلاق پانے کے لئے صادر فرمائی ہے۔میں دشمن کو جواب دوں کہ جو کچھ تم سے ہوسکتا ہے کر گزرو۔اپنے سوار بھی دوڑ دو احمدیوں پر ، اپنے پیدل بھی دوڑ دو۔آواز میں دے کر ، ان کو دھوکا دے کر ان کو اپنی طرف بلاؤ ، ان کو لالچیں دو، ان کو ہر قسم کے تحفظات مہیا کرنے کی کوشش کرو، ان کو بتاؤ کہ تم اگر اکثریت میں شامل ہو گے تو تم ہماری اولاد کی طرح ہو جاؤ گے، ہماری کثرت میں حصہ دار بن جاؤ گے اور جو دھوکا دینے کے وعدے ہیں تم کر گز رو لیکن اوّل یہ کہ خدا متنبہ فرما رہا ہے کہ شیطان کے سارے وعدے دھو کے اور فریب کے وعدے ہوا کرتے ہیں اور یہ امر واقعہ ہے ہم نے اس سے پہلے دیکھا ہے۔بارہا فتنوں اور فسادوں کے وقت بعض لوگوں کو احمدیت کے دشمنوں نے سہارے دیئے ہیں، جھوٹے وعدے دیئے ہیں اور اچانک اٹھا کر زمین سے آسمان تک پہنچا دیا ہے اور پھر ایسا چھوڑا ہے کہ مڑکر دیکھا بھی نہیں ان کی طرف اور ان کی ساری زندگی ذلت اور رسوائی میں گزری ہے۔پس خدا تعالیٰ نے ضمناً ہمیں یہ بھی مطلع فرما دیا ہے کہ جو لوگ بیوقوفی میں ان کے وعدوں اور لالچوں کے دھوکے میں مبتلاء ہوں گے ان کا کوئی انجام نہیں ہے، یہ لوگ بے وفا لوگ ہیں ، یہ اپنوں کا جن کو اپنا سمجھتے ہیں ان کا ساتھ دینے والے بھی نہیں، ان کو چھوڑ دیا کرتے ہیں۔چنانچہ ایک نہایت ہی عبرتناک واقعہ جماعت کی تاریخ میں محفوظ ہے کہ عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے ساری عمر جماعت احمدیہ کی مخالفت میں زبان چلائی اور حد کر دی ظلم اور سفا کی کی۔زبان سے جس حد تک ظلم تو ڑا جا سکتا ہے عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے ساری عمر ایسا ہی کیا اور مسلمانوں نے جب تک ان میں جان تھی ، جب تک بولنے کی ہمت تھی خوب ان کا ساتھ بھی دیا۔