خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 307

خطبات طاہر جلد ۸ 307 خطبه جمعه ۲ ارمئی ۱۹۸۹ء تمام دنیا کے مختلف جگہوں پر پھیلے ہوئے مسلمانوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کیا اور اس کے لئے بے شمار روپیہ خرچ کیا، دین کی طرف متوجہ کیا، دینی مدارس قائم کئے ، مساجد آباد کرنے کی کوشش کی غرضیکہ سارے عالم اسلام کو ایک لڑی میں منسلک کر دیا اور پرو دیا۔یہ ظاہری تصویر ہے جو ساتھ ساتھ اُبھرتی چلی جارہی ہے اور نظریں ملے اور مدینے سے آگے نہیں جاتیں۔بہت کم باشعور اور صاحب فکر لوگ ہیں جو یہ جان سکیں ، جو یہ پہچان سکیں کہ وہ آواز میں جو ملگے اور مدینے کے میناروں سے وہ سن رہے ہیں وہ لاؤڈ سپیکر کی آوازیں ہیں اور وہ مائیکروفون جو لاؤڈ سپیکروں کو پیغام دے رہے ہیں وہ واشنگٹن میں نصب ہیں یا دیگر مغربی ممالک کے ان مقامات پر نصب ہیں جہاں اسلام کے خلاف حیرت انگیز اور نہایت خوفناک سازشیں ہو رہی ہیں۔ایک وہ ملک ہے سعودی عرب جو کامل طور پر مغرب کا غلام ہو چکا ہے اور اتنا بے اختیار غلام ہے کہ ہزار کوشش بھی کرے وہ اس غلامی کے بندھن سے آزاد نہیں ہو سکتا۔اس کا تمام اقتصادی سرمایہ سو فیصد مغربی ممالک کی تجوریوں میں جمع ہے اور خصوصاً امریکہ میں اور اس کا تمام تر سیاسی بقاء کا انحصار مغربی ممالک کی پشت پناہی پر ہے۔تمام وہ ہتھیار جو فوجوں کے بقاء کے لئے ضروری ہوا کرتے ہیں وہ سعودیہ کو مغربی طاقتوں سے مل رہے ہیں اور جس دن یہ چاہیں اپنا ہاتھ روکنے کی کوشش کریں اسی دن ان کی فوجی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ ان کی انٹیلی جنس کا کلیۂ انحصار مغربی طاقتوں کی انٹیلی جنس پر ہے۔جن کے تانتا اسرائیل سے ملتے ہیں اور دنیا خوب اچھی طرح جانتی ہے کہ آج امریکہ کی حکومت کی پالیسی واشنگٹن میں نہیں بلکہ اسرائیل میں وضع ہوتی ہے اور یہ وہ بات ہے جو ایک موقع پر ایک امریکی صدر نے اسرائیل کو مخاطب کر کے کہی تھی۔اس نے تو اپنی طرف سے یہ کہا تھا کہ ہم یہ بات نہیں مانیں گے لیکن دنیا کو یہ معلوم ہو گیا کہ ایسی بات ہو رہی ہے۔چنانچہ ایک امریکن صدر نے ایک موقع پر اسرائیل کی مداخلت سے تنگ آکر یہ کھلم کھلا اعلان کیا جو اخباروں میں چھپا، ریڈیو، ٹیلی ویژن پر Announce کیا گیا کہ اگر اسرائیل کی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی وہ طے کرے گی تو ہم ان کو بتا دیتے ہیں کہ ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔منہ سے تو یہی کہا لیکن امر واقعہ یہی ہے کہ خارجہ پالیسی طے وہیں ہوتی ہے۔صرف اسرائیل کی بات نہیں ہے امریکہ کی تمام طاقت کے سرچشمے بلا اشتباء یہودی ہاتھوں میں ہیں۔کوئی ایک ایسا طاقت کا سرچشمہ نہیں ہے جو حکومت کی پالیسی کنٹرول کرنے میں استعمال ہوتا ہو