خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 308
خطبات طاہر جلد ۸ 308 خطبه جمعه ۲ ارمئی ۱۹۸۹ء جو اسرائیلی یا یہودی گرفت سے باہر ہو۔پس وہ ملک جو ایک ایسے ملک کا غلام ہو جائے اور کلیۂ اس کی بقاء اس پر منحصر ہو جائے جو خود آگے یہودیت کا غلام بن چکا ہو اور ساری دنیا جانتی ہو کہ وہ غلام بن چکا ہے اور اگر چاہے بھی تو یہودیت کے بندھن سے وہ چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتا اس ملک کے میناروں سے جو آوازیں بلند ہوں گی وہ در حقیقت اسلام کے سب سے بڑے دشمنوں کی آوازیں ہوں گی جو اسلامی دنیا تک پہنچائی جارہی ہوں گی اور اسلامی دنیا کا یہ حال ہے اور یہ ان کی سادگی ہے کہ جب وہ ان آوازوں کو سنتے ہیں تو سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے ہوئے ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ ایک اور آقا کی آوازیں ہیں، محمد مصطفی ﷺ کی آوازیں نہیں ہیں۔حضرت محمد مصطفی ﷺ تو تمام دنیا کے آزادوں میں سب سے بڑے آزاد انسان تھے کیونکہ وہ شخص جو کامل طور خدا کے سامنے جھکنا جان لے سیکھ لے اور جس کا سر خدا کے سوا کسی اور کے سامنے جھکنے سے انکار کر چکا ہو وہی کامل آزاد ہے لیکن وہ قومیں خواہ وہ اسلام کا نام جیتی ہوں جب وہ قومیں جو دنیاوی طاقتوں اور اسلام دشمن طاقتوں کے سامنے جھکنا سیکھ چکی ہوں نہ صرف سیکھ چکی ہوں بلکہ مجبور ہو چکی ہوں اور چاہیں بھی ان کی غلامی سے سر اونچا کرنے کی کوشش کرنے کی خواہش بھی ان کے دل میں ہو، چاہیں بھی کہ ان سے آزاد ہو جائیں لیکن نہ ہو سکیں ان کو کون آزاد کہ سکتا ہے۔پس یہ وہ عالمگیر سازش ہے جس میں جماعت احمدیہ ان کے لحاظ سے ایک بڑا اہم کردار ادا کر رہی ہے۔چنانچہ آپ ایک طرف تو امریکہ کے یہ نعرے سنتے ہوں گے اور کسی حد تک ان میں درستگی بھی ہوگی کہ وہ انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اور روس اور امریکہ کی آپس کی جو گفتگو بار بار ہوتی چلی آئی ہے ابھی بھی ہوتی ہے یعنی سربراہوں کی آپس میں گفتگو ان میں آپ یہ سنتے ہوں گے کہ امریکہ روس کو بار بار یہ بات سمجھاتا ہے کہ انسانی حقوق کے تعلقات درست کرو۔انسانی حقوق کے معاملات میں اپنا Image جو تصویر تم نے بنائی ہوئی ہے اس کو درست کرو تب ہمارے تعلقات بہتر ہوں گے۔لیکن عجیب بات ہے کہ وہ تمام ممالک جو بیک وقت سعودی اور امریکہ کے اثر کے نیچے آ جاتے ہیں ان کو انسانی حقوق کا سبق ایسا بھول جاتا ہے جیسے کبھی یاد ہی نہیں ہوا تھا اور اسلام کے نام پر یہ مظالم کئے جاتے ہیں۔