خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 273
خطبات طاہر جلد ۸ 273 خطبه جمعه ۲۸ / اپریل ۱۹۸۹ء تو جب تک آپ اپنی نگاہ کو تیز نہ کریں اور دور کی نظر کو بھی تیز نہ کریں اور قریب کی نظر کو بھی تیز نہ کریں اور اپنی فراست کو روشنی نہ عطا کریں اس وقت تک آپ کو یہ بت دکھائی نہیں دیں گے اور جب بت دکھائی ہی نہیں دیں گے تو آپ ان کو توڑیں گے کیسے؟ اس لئے اس صدی کی سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم تو حید کامل کے مضمون کو سمجھیں اور اس کے ساتھ چمٹ جائیں اور اس کے ساتھ وابستہ ہو جائیں۔قرآن کریم کے مطالعہ سے بارہا یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہماری جتنی مشکلات اور جتنی مصیبتیں ہیں ان کا حل تو حید ہے اور تو حید آپ کے سارے مصائب کا ازالہ کرنے کے لئے کافی ہے۔وہ مصائب اور وہ مشکلات جو جماعت کو در پیش ہیں اگر جماعت بڑی شدت وقوت کے ساتھ تو حید کے مضمون کو پکڑ کر بیٹھ جائے تو وہ ساری مصیبتیں دور ہو جائیں گی۔خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے قرآن کریم میں کہ میں موحدین کے مقابل پر مشرکوں کو نہیں جیتنے دوں گا۔کامل غلبے کا یقین دلایا ہے موحدین کو اور بار بار اس مضمون کو بیان فرمایا کہ ممکن ہی نہیں ہو ہی نہیں سکتا کہ مشرک موحدین پر غالب آجائیں اور چونکہ انبیاء کی جماعتوں کے دشمن خواہ منہ سے توحید کا اقرار کرنے والے ہوں فی الحقیقت وہ مشرک ہو چکے ہوتے ہیں۔اس وقت اس مضمون کی تفصیل میں جانے کا ذکر نہیں آئندہ جب اس مضمون کو چھیٹروں گا تو میں آپ کو بتاؤں گا کہ کس طرح دو اور دو چار کی طرح یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ یہ جتنے بھی سچائی کے دشمن ہوتے ہیں وہ اپنے وقت میں مشرک ہو چکے ہوتے ہیں۔ان کی ہر بات میں شرک داخل ہو چکا ہوتا ہے۔پس شرک کے مقابل پر توحید کی طرف دوڑنا یہ ہجرت ہے اور یہ وہ دراصل روحانی ہجرت ہے جس کی قرآن کریم میں بار بار تاکید فرمائی گئی ہے۔اس کے بغیر خالی جسمانی ہجرت کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتی۔اوّل ہجرت یہ ہے اور یہ ہجرت اگر ہو جائے تو پھر انسان مقام محفوظ میں داخل ہو جایا کرتا ہے ورنہ آجکل تو جسمانی ہجرت کے راستے ویسے ہی مسدود ہیں۔آجکل کے زمانے میں ایسے ایسے قوانین بن گئے ہیں کہ کبھی اپنے وطن والے آپ کو ہجرت نہیں کرنے دیتے، کبھی دوسرے قبول نہیں کرتے۔ہزار مصیبتوں میں سے گزر کر بعض دفعہ بعض لوگ فریب دہی سے کام لے کر پھر ہجرت کرتے ہیں اب وہ خدا کی خاطر ہجرت تو نہیں ہو سکتی۔کہیں قرآن کریم میں آپ کو فریب اور ہجرت کا مضمون اکٹھا نہیں ملے گا۔وہ ہجرت اپنی تن آسانی کے لئے ہو سکتی ہے، بعض جسمانی مصیبتوں سے بھاگنے کے لئے