خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 274

خطبات طاہر جلد ۸ 274 خطبه جمعه ۲۸ اپریل ۱۹۸۹ء ہو سکتی ہے، رزق کی کشائش کی خاطر ہو سکتی ہے مگر یہ وہ ہجرت نہیں ہے جس کا قرآن کریم نے ہجرت الی اللہ کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔یہ وہ ہجرت نہیں ہے جس کا مضمون آنحضرت ﷺ نے بارہا مختلف رنگ میں کھول کے ہمارے سامنے پیش فرمایا اور جس کا عرفان اپنی امت کو آپ نے عطا فرمایا ہے۔ہجرت ہوتی ہے خوف سے امن کی طرف اور حقیقت یہ ہے کہ اگر جسم خوف کی حالت میں بھی رہیں اور روح خدا کی طرف ہجرت کر جائے تو انسان کو امن نصیب ہو جایا کرتا ہے۔پھر یہ دنیا کے Tarif دنیا کے قوانین، دنیا کی روکیں اور پاسپورٹ اور ویزوں کے جھگڑے ایسے انسان کو مقام امن میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتے کیونکہ خدا کی طرف ہجرت کے لئے کوئی روک نہیں ہے سوائے نفس کی ان دیواروں کے جو انسان خود اپنے ارد گرد کھڑا کرلیا کرتا ہے۔پس حقیقت میں آج کے مصائب کا حل بھی، آج کی ان مشکلات کا حل بھی جو مختلف جماعتوں کو مختلف ممالک میں دکھائی دے رہی ہیں اور جن میں سے ان کو گزرنا پڑ رہا ہے وہ یہی ہے کہ وہ ہجرت کر جائیں اور ہجرت شرک سے توحید کی طرف ہوا کرتی ہے۔اگر آپ تو حید کی طرف ہجرت کر جائیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قرآن کریم آپ کے حق میں یہ گواہی دے گا کہ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ان کے اوپر کوئی خوف نہیں رہا اور کوئی حزن ان پر باقی نہیں۔ہے۔یہ مقام مامون میں داخل ہو گئے ہیں ، مقام محفوظ میں داخل ہو گئے ہیں اور اس ہجرت کو اختیار کرنے کے لئے آپ کو کسی قسم کی دقتوں، مصیبتوں میں سے گزرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر قدم جو اس ہجرت کی راہ میں آپ اٹھاتے ہیں وہ راحت کا قدم ہے، طمانیت کا قدم ہے۔وہ لوگ جن کو برائیوں سے بالا رادہ نجات حاصل کرنے کا تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ پہلے اس سے بہت مشکل دکھائی دیا کرتی ہے لیکن جب انسان عزم کر کے خدا تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ایک فیصلہ کرتا ہے، اس سے مدد مانگتے ہوئے وہ برائی کو چھوڑنے کے لئے قدم اٹھاتا ہے تو اچانک ساری مشکلات اس کی غائب ہو جاتی ہیں۔وہ بڑے ہی راحت اور اطمینان کی فضا میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر جب مڑ کر دیکھتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ میں کن چیزوں میں مبتلا تھا کس مصیبت میں میں مبتلا تھا۔وہ نجات کا دن ہے لیکن جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کوئی ایک دن ایسا نہیں ہے جسے آپ نجات کا دن قرار دے کر پھر ہمیشہ کے لئے اس سے چھٹی کر جائیں، اس کوشش کو ترک کر دیں اور اس میں ایک لطف کی