خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 272
خطبات طاہر جلد ۸ 272 خطبه جمعه ۲۸ اپریل ۱۹۸۹ء والے خوش نصیب بھی ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو آج تک ان کو چھوڑ نہیں سکے۔ہزاروں لاکھوں ایسے دکھ ہیں جماعت میں ابھی تک جو میری طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں کوئی مظلوم ہے، کسی کے پیسے کھائے گئے ہیں، کسی کی جائیداد چھینی گئی ہے، کسی کو دوسرے اور طریق سے حقوق سے محروم کیا گیا ہے، کسی بیوی نے خاوند سے بدسلوکیاں کی ہیں، کسی خاوند نے بیوی سے بدسلوکیاں کی ہیں، کوئی ماں باپ ہیں جو بچوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے، ان کے ساتھ مناسب شفقت اور رحمت سے پیش نہیں آرہے۔کچھ بچے ہیں جو ماں باپ سے باغی ہو رہے ہیں، کچھ ماں باپ ہیں جو نرمی کو اس حد تک پہنچا دیتے ہیں کہ بچوں میں برائیاں سرایت کرتی چلی جاتی ہیں وہ خدا سے بھی غیر ہوتے چلے جاتے ہیں ان کو کوئی فکر نہیں ہوتا۔یہ سارے جتنے مظاہر ہیں یہ شرک کے مظاہر ہیں اور جب تک جماعت توحید پر قائم نہیں ہوتی اس وقت تک ان مصائب اور برائیوں سے نجات ممکن نہیں ہے اور نجات حاصل کرنے کے لئے جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا اپنے شعور کو زیادہ تیز کریں اور اپنے مطالعہ کو وسیع بھی کریں اور گہرا بھی کریں۔دور کی نظر بھی رکھیں اور قریب کی نظر بھی رکھیں۔مشکل یہ ہے کہ روحانی طور پر بھی انسان کو کم و بیش ویسی ہی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جیسے جسمانی طور پر لاحق ہوا کرتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے جیسے مادی دنیا میں بعضوں کی دور کی نظر کمزور ہوتی ہے اور بعضوں کی قریب کی نظر کمزور ہوتی ہے۔روحانی دنیا میں بھی بعینہ یہی نظارے ملتے ہیں۔بعض لوگوں کو وہ خطرات دکھائی نہیں دیتے روحانی جو کچھ فاصلے پر کھڑے ہوں۔آئندہ آنے والی نسلوں کو در پیش ہونے والے ہوں اُن سے بالکل وہ لوگ اندھے رہتے ہیں۔جب خطرات آجاتے ہیں سر پر پہنچ جاتے ہیں بعض اوقات گھیرا ڈال لیتے ہیں اس وقت ان کو دکھائی دینے لگتے ہیں۔بعضوں کی قریب کی نظر اندھی ہوتی ہے دور کی تیز ہوتی ہے تو دور کے خطرات بھی دیکھ لیتے ہیں اپنے ماحول کے دور دور کی برائیاں بھی دیکھ لیتے ہیں اور خاص طور پر غیروں کی برائیاں دیکھنے میں تو نظر اتنی تیز ہوتی ہے کہ انسان حیرت سے ان کی نظر کی تیزی کو دیکھتا ہے کہ باریک سے باریک برائیاں جو ابھی ظاہر بھی نہیں ہوتیں وہ ان کو دکھائی دینے لگ جاتی ہیں اور جتنا قریب آتے جائیں اتنی نظر اندھی ہوتی چلی جاتی ہے۔نہ اپنی برائی دکھائی دیتی ہے، نہ اپنی بیوی کی ، نہ اپنی بیٹیوں کی ، نہ اپنے بیٹوں کی ، نہ اپنے پوتوں پڑپوتوں کی ، نہ اپنے دوستوں کی۔بس اس قریب کے ماحول میں سب کچھ ٹھیک ہے باہر نکلتے ہی نگاہ تیز ہو جاتی ہے۔