خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 266
خطبات طاہر جلد ۸ 266 خطبه جمعه ۲۸ راپریل ۱۹۸۹ء راتوں میں دیکھی؟ کہ وہ بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو گئیں کہ رمضان مبارک کے آخری عشرہ میں تو آنحضرت ﷺ اپنی راتوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔پس مراد یہ ہے کہ آپ کی پہلی راتوں کی زندگی کے مقابل پر ایک ایسی نئی چمک ان راتوں میں آیا کرتی تھی کہ بے اختیار انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جا تا تھا کہ گویا اب راتیں زندہ ہوئی ہیں۔یہ فصاحت و بلاغت کا کمال ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آنحضور ﷺ کے ہر رمضان مبارک کے ہر آخری عشرہ کی تعریف میں بیان فرمایا۔اس موقع پر میں نے سوچا کہ جماعت احمدیہ کو کس دعا کی خصوصیت سے تلقین کروں اور کس نیکی کی طرف خصوصیت کے ساتھ بلاؤں۔ویسے تو جماعت ان دنوں نہایت ہی اہم تاریخی لمحات میں سے گزر رہی ہے اور صرف ایک ہی ملک میں نہیں بلکہ اور بھی بہت سے ممالک میں جماعت کو کئی قسم کے مصائب اور شدائد کا سامنا ہے اور پہلا دھیان جو ذہن میں آتا ہے وہ یہی آتا ہے کہ ان مظلوم بھائیوں کی استقامت کے لئے دعا کی تلقین کی جائے جو ان مصائب کا مردانہ وار مومنانہ صداقت کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں اور پھر ان کے دلوں کی ڈھارس کی دعا کی تلقین کی جائے۔ایسی ڈھارس کی دعا کی تلقین کی جائے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور انسانی کوشش اور جدوجہد کا اس سے تعلق نہیں غرضیکہ ان باتوں کو سوچتے ہوئے بالآ خر میرا ذہن جس بات پر ٹھہرا اور جم گیا وہ یہ بات تھی کہ میں توحید کی طرف جماعت احمدیہ کو بلاؤں اور تو حید ہی کے ضمن میں دعاؤں کی تلقین کروں۔یہ دور جس دور میں سے ہم گزر رہے ہیں یہ دور آتے ہیں اور چلے جایا کرتے ہیں اور بہت سی برکتیں اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں یہ غم عارضی ہیں جو خوشیاں ان کے بعد آنے والی ہیں وہ دائمی ہیں اور ہر اس غم کے پیچھے جو خدا تعالیٰ کی خاطر برداشت کیا جائے لازماً ایک دائمی خوشی پیچھے رہ جایا کرتی ہے اور اسی کا نام جنت ہے۔یہی وہ جنت ہے جو اس دنیا میں مشاہدہ کریں وہ یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے فضل کے ساتھ ان کو اگلی دنیا میں بھی یہ جنت نصیب ہوگی۔پس یہ باتیں جو غم کے بھیس میں آیا کرتی ہیں یہ ہمیشہ مومنوں کو خوشیوں کا اور تقویٰ کا لباس پہنا کر چلی جایا کرتی ہیں لیکن ایک چیز جس کی ہمیں بہت شدید ضرورت ہے اور تمام دنیا کی جماعتوں کو، جماعت کے ہر فردکو ضرورت ہے وہ تو حید خالص کو اختیار کرنا ہے۔اس کا ان وقتی آزمائشوں سے کوئی تعلق نہیں۔یہ ایک مستقل مضمون ہے، یہ وہ مقصد اعلیٰ ہے جس کی خاطر مذاہب قائم کئے جاتے ہیں۔یہ انسانی زندگی کا