خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 264
خطبات طاہر جلد ۸ 264 خطبه جمعه ۲۱ راپریل ۱۹۸۹ء اور ایک عظیم الشان پیغام ہے۔فصاحت و بلاغت کا مرقع اور سرتاج کلام ہے۔ایسے کلام کو اس طرح پیش کرنا کہ پڑھنے والا الجھن محسوس کرے ذہنی اور دل پہ بوجھ محسوس کرے اور سمجھ نہ آئے کہ مجھے کیا ا کہا جارہا ہے؟ یہ قرآن کریم سے وفا نہیں اس سے بڑی بے وفائی ہے۔جو تر جسے ہم پیش کر رہے ہیں ان میں کوشش یہی ہے کہ کامل وفاداری کے ساتھ کامل قرآن کریم کا ترجمہ بہترین زبان میں پیش کیا جائے لیکن میں جانتا ہوں اس میں بہت سے نقص ہوں گے ابھی۔ہم اس بات سے غافل نہیں ہیں جو ترجمے شائع ہورہے ہیں ان پر نظر ثانی کا کام نظر ثالث کا کام نظر چہارم کا کام ہوتا چلا جارہا ہے ساتھ ساتھ اور کئی نقص نظر آتے ہیں جن کو ہم دور کرتے چلے جائیں گے انشاء اللہ تو ایک یہ جاری کام ہے۔کبھی بھی دنیا میں کوئی انسان قرآن کریم کا کوئی ایسا ترجمہ پیش نہیں کر سکتا جسے وہ مکمل اور کامل اور بہترین ترجمے کے طور پر پیش کر سکے۔کیونکہ قرآن کریم تو ایک ایسی کتاب ہے جس کا کامل ترجمہ ہو ہی نہیں سکتا نہ ممکن ہے۔عربی کو خدا تعالیٰ نے بنایا ہی اس لئے تھا کہ اس میں کلام مجید نازل ہوگا اور اس نقطہ نگاہ سے اس کلام کو سنبھالنے اور اس کا ظرف بننے کا حق صرف عربی زبان کو ہے۔مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے انشاء اللہ تعالیٰ ہم کوشش کرتے چلے جائیں گے اور موجودہ تراجم بھی خدا کے فضل سے اس پہلو سے گزشتہ اکثر تراجم سے بہت ہی بہتر ہیں۔تو یہ سارے کام ہم نے دنیا میں کرنے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ان کے لئے بڑی ہمت درکار ہے۔ابھی اس کام کو آگے دنیا میں پہنچانے والا کام جو ہے یہ فکرمندی کا کام ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت اس سال اتنا پیغام پہنچا دے گی دنیا کو کہ کونے کونے میں تو حید گونجنے لگے گی اور حضرت محمد مصطفی عملے کی عظمت کے گیت گائے جانے لگیں گے اور دنیا کو معلوم ہوگا کہ وہ کیا تھا جس سے وہ محروم رہے ہیں۔کون سی سعادتیں تھیں جواب تک ان کے نصیب میں نہیں آئی تھیں۔بہت سی زمینیں ہیں جو فتح ہونے والی ہیں اسلام کے لئے۔آج تک بعض ایسے مذاہب ہیں جوا کیلے مسلمانوں سے زیادہ تعداد میں ملتے ہیں۔اس لئے اس کام کے انجام کا تو سوال ہی نہیں آغاز کے بھی ابتدائی پہلو ہیں ، ابتدائی قدم ہیں جو ہم نے اٹھائے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے کہ ان کاموں کے تمام حق ادا کریں اور اس طرح ادا کریں حق کہ اللہ تعالیٰ کی پیار کی نگا ہیں ہم پر پڑنے لگیں۔