خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 260
خطبات طاہر جلد ۸ 260 خطبه جمعه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۸۹ء تو اس غم میں گھلنے لگ جاتے تھے کہ میں تو اپنی طاقت کے مطابق جتنا مجھے کرنا چاہئے تھا نہیں کر رہا یہ احساس پیدا ہوتا تھا اور خدا بتاتا تھا کہ کر رہا ہے تو۔تو اپنی حد استطاعت تک پہنچ چکا ہے ہرگز فکر نہ کر۔یہ ہے رنگ کام کرنے کے اس طرح اگر جماعت کام کرے تو آج جو ہماری توفیق ہے یہ اس سے بہت زیادہ بڑھ جائے گی اور بہت زیادہ پھیل جائے گی اور آپ کی توفیق کی وسعتوں کے لحاظ سے آپ کو وسعتیں عطا ہوتی ہیں۔آپ کی ہمتوں کی بلندی کے لحاظ سے آپ کو سر بلندی نصیب ہونی ہے اس لئے اس سال اپنی توفیق کو بڑھانے کے پروگرام بنائیں۔ہرگز یہ وہم نہ کریں کہ آپ چھوٹے ہیں تھوڑے ہیں کام بہت زیادہ ہے۔آپ کا موں پر ہاتھ ڈلیں اور کام آسان ہوتے چلے جائیں گے۔نئی نئی راہیں کھلتی چلی جائیں گی نئی ہمتیں آپ کو عطا ہوتی چلی جائیں گی۔یہ جو میں نے ایک دفعہ اعلان کیا تھا کہ مختلف ممالک کے لوگ آپ کے ہاں بستے ہیں ان تک پہنچنے کا انتظام کریں۔اب تک میں نہیں جانتا کہ کن کن ممالک میں سنجیدگی سے یہ کوششیں کی گئی ہیں مگر ایک ایسے مبلغ ہیں جن کے متعلق میں جانتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے وہ ہمیشہ میری فکر کو اپنی فکر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ امام کمال یوسف صاحب ہیں۔بعض ایسی باتیں ہیں جو بعض دفعہ میں بھول بھی چکا ہوتا ہوں اور جب ان کی رپورٹ آتی ہے تب مجھے یاد آتا ہے کہ ہاں میں نے چار سال پہلے یہ بات کی تھی لیکن اس شخص نے بھلائی نہیں۔اس طرح سارے مبلغوں کو کام کرنا چاہئے۔اس میں رقابت کی بات نہیں ہے۔جس مبلغ کی جو خوبی ہے اللہ کے فضل سے میری اس پر نظر رہتی ہے اور میں اس کا احسان مند رہتا ہوں، اس کے لئے دعا کرتا ہوں۔میں مقابلے کی خاطر نہیں آپ کو بتا رہا، میں آپ کو بتارہا ہوں کہ یہ ایک ایسی خوبی ہے جو بہت ہی زیادہ مجھے پیاری ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ خدا کو بھی بہت پیاری ہے کیونکہ یہ خوبی سب سے زیادہ محمد رسول اللہ ﷺ میں موجود تھی۔اس لئے ہو نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ کی اس خوبی پر محبت اور پیار سے نظر نہ پڑتی ہو۔آپ سب اس خوبی کو اپنا ئیں۔جو فکریں آپ کو جماعت احمدیہ کے امام کی طرف سے جو بھی ہوں، ہلتی ہیں۔ان فکروں کو اپنی بنالیا کریں، ان فکروں میں غلطاں رہا کریں یہ سوچا کریں کہ کس طرح ہم نے ان باتوں کو پورا کرنا ہے۔پھر دیکھیں کہ کتنی آپ کو عظمتیں نصیب ہوں گی کتنی برکتیں ملیں گی اور کس تیزی کے ساتھ جماعت ہر سمت میں ہر جہت میں پھیلتی چلی جائے گی۔انہوں نے ابھی حال ہی میں مجھے ایک تفصیلی