خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 259
خطبات طاہر جلد ۸ 259 خطبه جمعه ۲۱ راپریل ۱۹۸۹ء کی ایک زنبیل ہے جس میں جتنا ڈال دو وہ سمیٹ لیتی ہے لیکن بالکل جھوٹ ہے ایسی کوئی چیز نہیں لیکن ہاں ایک ایسی چیز ضرور ہے جس کے متعلق ہرایسا تصور سچا ثابت ہوتا ہے اور وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی قلبی، روحانی اور عملی وسعتیں ہیں۔تمام دنیا کے بوجھ اللہ تعالیٰ ان پر ڈالتا چلا گیا اور آپ کی توفیق بڑھتی چلی گئی اور آج بھی جو جماعت احمدیہ کی توفیق ہے وہ وہی توفیق ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تو فیق تھی اور ہے اور ہمیشہ رہے گی۔اتنی عظیم تو فیق کو چھوٹا سمجھ لینا یہ بہت بڑی بیوقوفی ہے اور میرا تجربہ ہے بالکل ایسے لوگ جو معمولی حیثیتوں کے لوگ ہوں اور بظاہران سے کوئی تو قعات نہ ہوں جب وہ خدا کا نام لے کر خدا پر تو کل کرتے ہوئے عظیم کا موں پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو وہ عظیم کام ان کے لئے آسان ہونے لگ جاتے ہیں۔پس ہر مبلغ کو، ہرا میر کو اور ہر کارکن کو خواہ وہ عہدیدار ہو یا نہ ہواس تو فیق کو پیش نظر رکھ کر کام کرنا ہو گا۔اس کو اپنی عظمت کا احساس چاہئے ورنہ اس کی توفیقیں ضائع چلی جائیں گی۔بعض ایسے مبلغ ہیں جو میں نے دیکھا ہے جن کو جب کوئی کام کہا جائے تو اپنا بنا لیتے ہیں۔میری فکر ان کی فکر ہو جاتی ہے۔وہ ایسے مبلغ ہیں جن کے لئے بے اختیار دل سے دعائیں نکلتی ہیں اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کے کاموں میں برکت بھی بہت ڈالتا ہے اور وہ کوئی چیز بھولتے نہیں ہیں۔اصل کام کرنے کا طریق یہ ہے کہ جب آپ ایک پیغام سنیں تو اس پیغام کو اپنی فکر بنالیں۔یہ طریق ہم نے حضرت محمد مصطفی ﷺ سے ہی سیکھا ہے۔اس حد تک آپ اگر فکروں کا لفظ خدا کے لئے بولا جاسکتا ہے تو خدا کی فکروں کو اپنی فکریں بنا لیتے تھے کہ خدا کو یہ فکر ہو جاتی تھی کہ محمد رسول اللہ ﷺ اس فکر میں اتنے کیوں غلطاں ہو گئے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِيْنَ (الشعراء: ۴) میں یہی تو پیغام ہے۔خدا نے ایک کام سپرد کیا وہ ایسا اپنے دل کو لگا لیا کہ اس پیغام میں گھلنے لگے، دن رات اس غم میں اپنے نفس کو ہلاک کرنے لگے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تجھے کہا تو تھا کہ یہ کام کر لیکن اتنا تو نہ کر کہ اپنے نفس کو خطرے میں ڈال لے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ کیا تو اپنے نفس کو ہلاک کر لے گا۔أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ بعینہ وہی بات ہے جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔یہ بوجھ ڈالا گیا کہ ساری دنیا کو مومن بنانا ہے اور اس قدر دل کو لگالیا، چمٹا لیا اپنی ذات سے، اپنے وجود کا حصہ بنالیا اس فکر کو کہ جب دیکھتے تھے کہ انکار کرتے ہیں