خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 258
خطبات طاہر جلد ۸ 258 خطبه جمعه ۲۱ ر ا پریل ۱۹۸۹ء شدید مخالف ہے ریاست کے طور پر لیکن وہاں جب جماعت کی خبر پہنچی اورلٹریچر دکھایا گیا تو ایمبیسیڈر صاحب نے خود خواہش کا اظہار کیا کہ آپ کے مبلغ مجھے آکر ملیں میں تو حیران رہ گیا ہوں یہ دیکھ کر اور جب وفد گیا تو اس ملاقاتوں کے نتیجے میں انہوں نے خود اس خواہش کا اظہار کیا کہ یہ تو ایسی عظیم الشان چیز ہے کہ ہم پسند کریں گے کہ ہمارے ملک میں کثرت سے اس کا تعارف کروایا جائے اور ایسے ذرائع اختیار کئے جائیں کہ وہاں عوام تک یہ بات پہنچے۔تو کوشش باقی ہے ابھی اور بڑی تفصیلی کوشش باقی ہے۔جو پہلی محنت ہے وہ اگلی کوشش کے لئے ایک غذا کے طور پر ہے اور اصل کام یعنی اس محنت کو آگے پہنچانا اور اس سے استفادہ کرنا یہ سارا ابھی باقی پڑا ہوا ہے۔بعض مبلغ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے ہیں کہ ان کو ایک دفعہ جب بات پہنچ جائے تو وہ پھر اس کو فراموش نہیں ہونے دیتے اور بعض ایسے ہیں جو فراموش تو نہیں کرتے لیکن رسمی طور پر اس کا حق ادا کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو آیت ہے قرآن کریم کی لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ: ۲۸۷) اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی توفیق تو پہلے ہی چھوٹا سمجھ لیں اور پھر یہ کہیں کہ ہماری تو توفیق ہی اتنی تھی۔جب ان سے پوچھا جائے کہ میاں یہ کام آپ نے کیوں نہیں اس حد تک کیا تو کہتے ہیں دیکھیں ہماری توفیق جتنی تھی وہ ہم نے کر دیا۔اس سے بڑھ کر تو خدا بھی ہمیں مکلف نہیں کرتا آپ کیسے کر سکتے ہیں؟ لیکن یہ تو درست ہے کہ جسے خدا مکلف نہیں کرتا اسے بندہ کہاں مکلف کر سکتا ہے لیکن خدا نے جو توفیق دی ہوئی ہے جماعت احمدیہ کو اسے چھوٹا سمجھنا بہت ہی بڑی بیوقوفی ہے۔بہت عظیم الشان توفیقیں عطا فرمائی ہیں۔اس سے پہلے بھی میں نے یہ مضمون کھولا تھا جب حضرت اقدس محمدمصطفی ﷺ کو جب آپ تنہا تھے ، ایک تھے یہ فرمایا گیا کہ ساری دنیا کو تم نے فتح کرنا ہے اور ساری دنیا کے دل جیت کے میرے قدموں میں ڈالنے ہیں۔تو کیا اس وقت یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا کا مضمون کہاں خدا بھول گیا ؟ ایک شخص کے نازک کندھوں کے اوپر یہ بوجھ ڈال رہا ہے کہ آج کی دنیا نہیں بلکہ ساری دنیا، رہتے وقتوں تک کی دنیا کے لئے تم نے یہ سارا کام کرنا ہے لیکن خدا جانتا تھا کہ محمد مصطفی ﷺ کو توفیق ہے اور آپ کی توفیق کا راز یہ ہے کہ وہ بڑھنے والی توفیق ہے، پھیلنے والی توفیق ہے، کام کے ساتھ ساتھ آگے آگے چلتی چلی جاتی ہے اور جتنا اس تھیلی میں ڈالو اتنا ہی وہ وسیع تر ہوتی چلی جاتی ہے۔کہانیوں میں تو آپ نے سنا ہوا تھا کہ عمر و عیار