خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 257

خطبات طاہر جلد ۸ 257 خطبه جمعه ۲۱ را پریل ۱۹۸۹ء بھی ہوں گے۔بہت بڑا کام پڑا ہوا ہے۔اس کے علاوہ ایک کام ایسا ہے جس کے متعلق پہلے بھی میں نے متوجہ کیا تھا لیکن ابھی تک عام ممالک سے جوا طلا ئیں آ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغام پوری طرح سمجھا نہیں گیا۔میں نے یہ کہا تھا کہ ہر ملک میں دنیا کے بہت سے ممالک کے نمائندے موجود ہیں اور جب آپ کو ایک سو اٹھارہ یا اس سے زائد زبانوں میں اسلام کے متعلق لٹریچر مہیا کیا جاتا ہے صرف یہ تین چیزیں ہیں جو میں نے بیان کی ہیں اور بھی کثرت کے ساتھ لٹریچر ہے جو بھجوایا جارہا ہے اور کوشش یہ ہے کہ ان نمائشوں میں دنیا کی تمام اہم زبانوں سے متعلق اسلام کا پیغام پہنچایا جا سکتا ہواور مختلف مضامین پر ان میں جو کچھ بھی سلسلے کا لٹریچر شائع ہوا ہے پہلے یا اب ہو رہا ہے وہ مہیا کیا جائے۔تو ایک بہت بڑی نمائش بن جاتی ہے۔اب اس کو آپ اگر صرف نمائش کے طور پر رکھ لیں اور ایک ملک کے لوگوں کو دکھائیں جس ملک میں آپ رہتے ہیں تو باقی زبانوں سے تو ان کو دلچپسی بھی کوئی نہیں ہوگی وہ صرف ایک تحسین کے رنگ میں نظر ڈال لیں گے اس سے زیادہ فائدہ نہیں ہو گا لیکن آپ کا کام ہے کہ تلاش کریں کہ مختلف زبانیں بولنے والے کون سے طبقات آپ کے ملکوں میں رہتے ہیں۔Ambassies ہے مثلاً ، تاجر ہیں بہت سے ممالک کے جو مختلف ممالک میں اپنی اغراض کی خاطر پہنچے ہوئے ہیں وہاں انہوں نے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔ان لوگوں سے رابطے کرنا اور رابطے کے وقت ان کی اپنی زبان کے تحفے ان کی خدمت میں پیش کرنا اور ان کو بتانا کہ دیکھیں آپ کی زبان کو بھی ہم نے کور کیا ہے۔اس سے طبیعتوں میں بہت خوشی پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ جہاں جہاں بھی حکمت کے ساتھ جماعت نے یہ تجربے کئے ہیں ان کی رپورٹیں بڑی خوشکن موصول ہو رہی ہیں۔عام طور پر رشیا کو جماعت احمدیہ کے متعلق کوئی خاص واقفیت نہیں ہے۔بہت ہی کم ہے اگر ہے تو۔لیکن ہر جگہ سے یہ رپورٹ ملی ہے کہ جہاں بھی ہم نے رشین قرآن کریم یعنی رشین زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ پیش کیا وہاں ایمبیسی کا سٹاف تھا یا تاجر تھے انہوں نے حیرت انگیز خوشی کا اظہار کیا اور نہ صرف یہ کہ مطالبہ کیا اور تراجم کا بلکہ خود خواہش ظاہر کی کہ ہمیں بھی بلا ؤوہاں اور دکھاؤ کیا کیا کچھ ہو رہا ہے۔اسی طرح ایسٹرن یورپین ممالک کے متعلق بھی اسی قسم کی اطلاعیں مل رہی ہیں کہ ایسے ایسے ممالک جہاں جماعت کا کبھی تذکرہ ہی نہیں ہوا تھا کبھی مثلاً بلغاریہ ہے اور ویسے بھی وہ مسلمانوں کے