خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 254
خطبات طاہر جلد ۸ 254 خطبه جمعه ۲۱ راپریل ۱۹۸۹ء اقرار کیا لیکن جو سب سے زیادہ جذبات میں ہیجان پیدا کرنے والی بات تھی وہ یہ تھی کہ ایک وزیر نے مڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر کو دیکھا اور آپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے آج سے ایک سو سال پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا آج میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ شخص سچا تھا اور واقعہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات پوری ہو گئی اور ایک شخص نے کہا کہ غالباً وہ وزیر تھایا کوئی اور نمائندہ اس نے کہا کہ تم آج کی ایک صدی کے آخر پر تو دیکھ رہے ہو کہ کیا ہو رہا ہے دنیا میں مگر تم اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ اگلی صدی کے آخر پر خدا تعالیٰ کے کتنے فضل تمہارے انتظار کر رہے ہوں گے۔ایسے واقعات ایک ملک میں نہیں ہوئے ملک ملک میں ، دیس دیس میں خدا کے فضل اسی طرح نازل ہوئے ہیں اور غیروں نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تحریک کے تابع ، اس کے فرشتوں کی تحریک کے تابع جماعت احمدیہ کی عظمت اور اسلام کی عظمت اور سر بلندی کا اقرار کیا ہے۔پس یہ ساری خبریں جب اکٹھی ہوں گی تو ایک وقت میں تو بتائی بھی نہیں جاسکتیں اور ایک وقت میں ہمارے دل برداشت نہیں کر سکتے۔پتا نہیں کتنے سال تک اس کے تذکرے اور چلنے ہیں لیکن ابھی تو یہ آغاز ہے اور میں آپ کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے جشن کے چند دن نہیں تھے ایک پورا سال ہم نے ان جشنوں کو منانے کا مقرر کیا ہے ایک جشن نہیں ہے بے شمار جشن ہیں۔گزشتہ سو سال کا ہر سال ایک جشن کا پیغام لے کر آیا تھا۔کون سا ایسا سال ہے جس میں آپ نے اللہ کے فضلوں کے نظارے نہیں کئے ، کون سا ایسا سال ہے جو شکر کے لئے اپنی طرف متوجہ نہیں کر رہا۔پھر ہر سال کے مہینے تھے ہر مہینے میں خدا کے فضل نازل ہوتے دیکھے گئے۔پھر ہر مہینے کے ہفتے تھے اور ہر ہفتے کے دن اور پھر راتیں۔کوئی ایک لمحہ بھی ان دنوں ان راتوں ان ہفتوں، مہینوں اور ان سالوں کا ایسا نہیں جس میں خدا تعالیٰ نے جماعت کے اوپر اپنے احسانات اور فضلوں کی بارشیں نہ برسائی ہوں۔تو ایک جشن تو نہیں ہے۔یہ تو انگنت جشن ہیں جو ہم نے منانے ہیں اور اس سال کے اندر جو ہم نے پروگرام بنائے ہیں وہ ان عظیم جشنوں کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے لیکن وہ پروگرام بھی جو ان جشنوں کے مقابل پر ان جشنوں کا حق ادا کرنے کا جہاں تک تصور ہے ان کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے ہیں اتنے ہیں کہ جماعت کو ان کو منانے کے لئے پوری ہمت درکار ہوگی، بڑی محنت کرنی