خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 253
خطبات طاہر جلد ۸ 253 خطبه جمعه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۸۹ء جود شمن ہیں۔کہ تم دنیاوی تدابیر سے ہماری شکست کے خواب تو دیکھ سکتے ہو لیکن وہ بھی درست نہیں وہ بھی پورے نہیں ہوں گے کیونکہ مومن کی فراست کی تدابیر تمہاری تدابیر پر غالب آنے کے لئے مقرر کی گئی ہیں۔مومن کی فراست والی تدابیر پر تمہاری تدابیر کو غلبہ نصیب نہیں ہوسکتا لیکن یہ وہم تو پھر بھی تم اپنے دل میں رکھ لو پال لو کہ طاقتور تدابیر کے ذریعے تم ہماری تدابیر کو نا کام بناؤ گے لیکن اپنی تدابیر کے ذریعے تم خدا کی تقدیر کو کیسے نا کام کر سکتے ہو؟ بالکل بے بس اور بے اختیار ہو کر رہ گئے ہو تم آج۔کوئی تمہاری پیش نہیں جاتی۔زیادہ سے زیادہ تیر جو تم نے مارا ہے وہ اہل ربوہ کی خوشیاں ان کے دلوں سے نوچنے کی کوشش کی ہے۔اب تمہارے دل گواہ ہیں کہ تم اس میں ناکام رہے ہو۔جو آگ لگی ہے، وہی آگ بھڑ کی ہے ننکانہ صاحب اور بعض دوسری جگہوں پر۔وہ آگ گواہ ہے کہ خدا کی قسم تم نا کام کر دیئے گئے اور نا مراد بنا دیئے گئے ہو۔کوئی تدبیر تمہاری کامیاب نہیں ہوئی اور اہل ربوہ کو میں یہ کہتا ہوں کہ جب تم یہ نظارے دیکھو گے کہ تمام دنیا سے اکٹھے ہو کر تمہارے لئے پیش کئے جائیں گے تو وہ تھوڑا سا غم جو تمہارے دل کو لگا تھا تم اس کو بھی بھلا دو گے اور خدا کے حضور شکرانے کے آنسو برساؤ گے کہ اے خدا ہمارے دل میں اگر شکوے کی میل آئی بھی تھی تو ہمیں معاف فرما دے اس کثرت سے تم نے فضل فرمائے ہیں اور اس کثرت سے فضل فرما تا چلا جارہا ہے کہ اس راہ میں ایک چھوٹا سا کانٹا جب جائے تو اس پر انسان شکوے لے کر بیٹھ جائے اور منہ بسور کے کہے کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہو گیا؟ ہم نے اتنی دیر تیاری کی تھی، ہمارے قمقمے نہیں جل سکے، ہماری جھنڈیاں نہیں لگائی جاسکیں وہ کیا صدمہ ہے؟ ان خوشیوں کو دیکھو جو سارے عالم پر محیط ہو گئی ہیں۔ان کا میابوں کو دیکھو جو جماعت کو دنیا کے ہر ملک میں کونے کونے میں نصیب ہو رہی ہیں۔جن کی تفاصیل کا بتانے کا تو یہ وقت نہیں ہے اور کچھ تو انشاء اللہ ویڈیوز اور ریسٹس کی صورت میں اور بڑے خوبصورت رسالوں کی صورت میں اور کتابوں کی صورت میں جماعت تک پہنچیں گی لیکن میں ایک چھوٹی سی جھلکی آپ کو بتاتا ہوں۔ایک اور جھلکی بتا تا ہوں یعنی دکھاتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس طرح جماعت کے دل ان نظاروں کو دیکھ کر خدا کے حضور جذبہ تشکر سے جھکتے تھے اور بے اختیار ان کی آنکھوں سے شکر کے آنسو بہتے تھے۔کینیڈا میں جو مرکزی تقریب ہوئی جشن تشکر کے سلسلے میں وہاں ایک تو پرائم منسٹر کا پیغام بھی سنایا گیا دوسرے بڑے بڑے لوگ حاضر ہوئے اور بڑی فراخدلی کے ساتھ جماعت کی عظمتوں کا