خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 255
خطبات طاہر جلد ۸ 255 خطبه جمعه ۲۱ راپریل ۱۹۸۹ء پڑی گی ، منصوبے بنانے ہوں گے، کوششیں کرنی ہوں گی۔یہ چند دن کی بات نہیں ہے سارا سال ابھی ہمارے کام باقی ہیں اور جس طرح ہم نے دنیا کے سامنے جماعت کے حالات پیش کرنے ہیں اس کے منصوبے بھی بڑی دیر سے تیار ہوئے ہیں اور ان کے اوپر عمل درآمد ہورہے ہیں۔کچھ حصے ایسے ہیں جن پر عمل مکمل ہو گئے کچھ حصے ہیں جن پر دوران سال عمل ہوتے رہیں گے لیکن جس جس حصے کو بھی مکمل کیا جائے گا اس کے ساتھ جماعت کے کام کا آغاز ہوگا اور ایسا کوئی کام نہیں ہے جو کمل ہو تو اختتام کو پہنچے۔ہر کام اس رنگ کا ہے کہ جب وہ مکمل ہوگا تو کام کا آغاز کرنے والا ہوگا مثلاً ایک سو سے زائد زبانوں میں جو قرآن کریم کے تراجم کئے گئے مکمل یا بعض حصوں کے ، تقریباً ایک سو اٹھارہ زبانوں تک تو بات پہنچ چکی ہے۔ابھی اور بھی کوشش کر رہے ہیں اسی طرح احادیث نبویہ کے تراجم اتنی ہی زبانوں میں کئے گئے یا کئے جارہے ہیں اور اسی طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کے جو تراجم ہیں ان کا ابھی ایک حصہ جماعتوں تک پہنچ سکا ہے اور باقی جیسے کہ کہا جاتا ہے پائپ لائن میں ہے یعنی ابھی یا تو پریس میں جاچکا ہے یا آخری اس کی نوک پلک درست کرنے والی باقی تھی اس کی طرف توجہ کی جارہی ہے۔خواہش اور کوشش تو یہی تھی کہ ۲۳ / مارچ تک یہ کام مکمل ہو جائیں اور جماعتیں اپنے ہاں نمائشوں میں ان کو سجا سکیں لیکن بہت سی مشکلات در پیش تھیں۔ایک سو بیس ممالک کی ایک سو بیس زبانوں میں یا چند اس سے کم ممالک کی ایک سو میں زبانوں میں تراجم کرنا اس کے لئے مناسب آدمی تلاش کرنا پھر ترجمے کی یعنی مضمون کی عظمت کے لحاظ سے جو احتیاطیں ضروری ہیں ان کو اختیار کرنا، بار بار دہرائی کرنا اور عالم تلاش کر کے ان سے رائے معلوم کرنا بہت بڑا کام ہے اور بعض جگہ اور بھی ایسی مشکلات درپیش تھیں جن کے اوپر ہمارا کوئی اختیار نہیں تھا مثلاً افریقہ کی بہت سی ایسی زبانیں ہیں جن کو پرنٹ کرنے کا کوئی انتظام نہیں اور ایک ایک لفظ کو خود اپنے ہاتھ سے کاغذ پر اتارنا پڑتا ہے یا نقش جمانا پڑتا ہے۔پھر ماہرین بہت کم ہیں ان زبانوں کے۔بعض زبانوں میں تو بہت ہی محنت کے بعد مشکل سے کوئی ماہر ملا۔پھر جماعت کا کوئی ایسا شخص ڈھونڈنا پڑتا ہے جو صاف لکھے یہ احتیاط کرے کہ ترجمے میں غلطی نہ کر رہا ہو کوئی اور پھر اس کے بعد اس کی کتابت کے مسائل پھر آگے پریس نہیں ملتا۔پریس والے کہتے ہیں ان حروف کو چھاپنے کے لئے ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے۔کئی قسم کی