خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 242
خطبات طاہر جلد ۸ 242 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء وہ گھوم گئی ہیں جس طرح ایسا شخص جس پر موت کی غشی طاری ہو تو اس کی آنکھیں پھر جاتی ہیں اور سفیدی دکھائی دینے لگتی ہے اور اس کی سیاہی کا مرکزی حصہ نظر نہیں آتا۔یہ حالت ہوگئی تھی ڈر کے مارے ان لوگوں کی۔اس کے مقابل پر فرمایا کچھ ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے کہا وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا ( الاحزاب :۲۳) کہ خدا کے ایسے بھی عظیم الشان مومن بندے تھے کہ جب انہوں نے احزاب کو گروہ در گروہ حملہ آوروں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو کہا یہی تو تھا جس کا خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا کہ تم ایسے ایسے خوفناک ابتلا ؤں میں ڈالے جاؤ گے اور آزمائشوں میں سے گزارے جاؤ گے۔وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ خدا کی قسم اللہ اور اس کے رسول نے سچ ہی فرمایا تھا۔وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا ایمان اور تسلیم کے سوا سپردگی کے سوا ان کو وہ حملہ کسی اور چیز میں بڑھانہ سکا۔یعنی خوف کی بجائے وہ پہلے سے بھی زیادہ بہادر ہو گئے اس عہد میں پہلے سے بھی زیادہ پختہ ہو گئے کہ وہ خدا کے حضور اپنا سب کچھ حاضر کر دیں گے اور ان کے ایمان کو بھی عظیم الشان تقویت ملی کہ کچھ ایسے بھی خدا کے پاک بندے اور عظیم انسان ہوا کرتے ہیں الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ( آل عمران : ۱۷۳) کہ دکھ اٹھانے کے باوجود، زخم کھانے کے باوجود پھر وہ آگے بڑھتے ہیں اور خدا اور رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔یعنی موت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہیں۔دشمن سے گزند اٹھا چکے ہوتے ہیں کوئی بات ان کو بھولی ہوئی نہیں ہوتی ، تجربوں میں سے گزر کر آتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ہاں اب بھی ہم لبیک کہیں گے اور اب بھی ہم لبیک کہیں گے۔فرمایا یہ لوگ جو نیک اعمال کرتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم اجر ہے جو ان کے لئے لکھا گیا ہے۔فرمایا الَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِيْمَانًا (آل عمران : ۱۷۴) ان کو لوگوں نے آ آ کے کہا کہ دیکھولوگ تمہیں مٹانے کے لئے اکٹھے ہو گئے ہیں۔قوم در قوم لوگ ہجوم در ہجوم لوگ تمہیں مٹانے کے لئے انڈ آئے ہیں۔فَاخْشَوْهُمْ ان کا خوف کرو فَزَادَهُمْ إِیمَانا ان کا خوف کرنے کی بجائے وہ ایمان میں اور بھی ترقی کر گئے۔وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (آل عمران : ۱۷۴)