خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 241

خطبات طاہر جلد ۸ 241 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء قرآن کریم نے بعض کمزوروں کی باتیں بھی محفوظ رکھیں جو حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام سے شکوے کیا کرتے تھے۔ان میں ایک یہ تھا قَالُوا أَ وَ ذِيْنَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِتَنَا (الاعراف: ۱۳۰) کہ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم تکلیف دیئے گئے تھے۔اب تو آ گیا ہے تو کونسا ہماری تکلیفوں میں کمی آگئی ہے مِن بَعْدِ مَا جِثْتَنَا تو آیا ہے تو ابھی بھی وہی تکلیف جاری ہے۔دیکھیں کتنا نمایاں فرق ہے۔ایک رد عمل یہ ہے جو شکوؤں اور شکایتوں کا رد عمل کہ تجھے مان کر تیرے آنے سے ہمارے کون سے حالات اچھے ہو گئے ہیں کیا بدلہ ہے؟ پہلے بھی مصیبتوں میں مبتلا تھے اب بھی مصیبتوں میں مبتلا ہیں اور ایک یہ رد عمل ہے جس کو میں نے بیان کیا کیسا روشن اور کیسا عظیم الشان، کیسا ہمیشہ کی زندگی پانے والا رد عمل ہے کہ جو کچھ تو نے کرنا ہے کر گز رہم خدا اور آسمانی نور کو تیری خاطر چھوڑ نہیں سکتے۔تجھے بقا نہیں ہے تو فنا ہونے والی قدر ہے اور خدا اور اس کے نور باقی رہنے والی قدریں ہیں اور پھر بہتر ہیں ہر لحاظ سے اس لئے ایسے گندے سودے کی طرف ہمیں نہ بلاؤ۔آنحضرت اللہ کے زمانے میں بھی قرآن کریم نے ایسی ہی حالت بیان کر کے دور د عمل محفوظ فرمائے ہیں یعنی کلام الہی ہمیں ان رد عمل کی تفاصیل سے آگاہ فرماتا ہے کہ دو مختلف قسم کے رد عمل ہیں۔ایک تو وہ ہے جس میں احزاب کے موقع پر جب غیر معمولی طور پر مشکلات کا سامنا تھا اور خطرات ہر طرف سے اور بڑے محیب خطرات تھے۔مسلمانوں کو گھیرے میں لئے ہوئے تھے اور دن بدن قریب آتے چلے جاتے تھے اور ایسے حالات سے یوں لگتا تھا کہ اسلام کی صف لپیٹ دی جائے گی۔اسلام کا تمام خلاصہ مدینہ میں محصور ہو چکا تھا اور تمام عرب کے جاہل اور جنگجو قبائل مدینے کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے اور یہ ارادہ کر کے آئے تھے کہ ہم واپس نہیں جائیں گے جب تک محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں کو صفحہ ہستی سے کلیۂ مٹانہ دیں۔یہ فیصلے کر کے آئے تھے کہ آج اس قضیے کو چکا دینا ہے۔آج ہمیشہ کے لئے اس جھگڑے کو ختم کر دینا ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ فرماتا ہے بعض کمزور ایسے بھی تھے جن کی حالت یہ تھی فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ (الاحزاب:۲۰) کہ جب وہ خوف کے دن آئے تو تو دیکھتا ہے کہ بعض ان میں سے تیری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں کہ ان کی آنکھیں خوف و ہر اس سے گھوم رہی ہیں۔كَالَّذِي يُغْشَى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ اس طرح