خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 243
خطبات طاہر جلد ۸ 243 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء انہوں نے کہا اللہ ہی ہمارا حسیب ہے وہی ہمارے لئے کافی ہے اور ہماری بہترین وکالت وہی کرے گا۔ان کو آنحضور ﷺ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغام پا کر یہ سجھایا قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَنَا هُوَ مَوْلنَا وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (التوبة: (۵) کہ دیکھو ہمارے نصیب میں جو بھی دکھ ہیں اور جو تکلیفیں ہیں وہ بظاہر تم عائد کر رہے ہو مگر ہم جانتے ہیں کہ خدا کی حکمت بالغہ نے انہیں ہماری اصلاح کے لئے اور ہماری بہتری کے لئے مقدر فرمایا ہے۔اس لئے چونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر ہماری تقدیر ڈھالی نہیں جاسکتی۔ہماری تقدیر تمہارے قلم نہیں لکھیں گے، تمہارے ظلم ہماری تقدیر نہیں بنانے والے۔ہماری تقدیر تو آسمان پر بنتی ہے اور خدا نے بنانی ہے۔اس لئے بالآ خر خدا کی اجازت کے بغیر ہمیں دکھ پہنچ نہیں سکتے۔پس اگر اس کی رضا یہی ہے کہ ہمیں دکھ پہنچیں اس کی راہ میں تو ہمیں بنانے کے لئے دکھ آئیں گے بگاڑنے کے لئے نہیں آسکتے۔کیونکہ انسان کے بنائے ہوئے دکھ بعض دفعہ قوموں کو بگاڑ دیا کرتے ہیں جن کا ان قوموں کو جن کے پیچھے خدا نہ ہو لیکن وہ تو میں جن کی تقدیر خدا بناتا ہے ان کو کوئی دنیا کا دکھ بگاڑ نہیں سکتا۔یہ وہ فلسفہ ہے جو اس میں بیان فرمایا گیا۔قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ (التوبۃ :۵۲۰) اوران سے کہہ دے کہ کیا تم اس کے سوا ہم سے کیا توقع، کیا امید رکھ سکتے ہو کہ دو نیکیوں میں سے ایک نیکی تو تم ہمیں ضرور دے جاؤ گے۔دوحسین چیزوں میں سے ایک چیز تم ہمارے لئے لے کے آئے ہو اور ان دو کے سوا تم اور چیز ہمیں دے ہی نہیں سکتے۔شکست ہم تم سے کھا نہیں سکتے اس لئے یا تو غازی بن کے نکلیں گے اور وہ بھی حسن ہے اور یا پھر خدا کی راہ میں شہید ہوں گے اور ہم اپنے مقصد کو پا جائیں گے اور شہادت کے وقت ہر شہید ہونے والا فزت برب الکعبه کانعرہ بلند کرے گا کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔پس یہ دو نیکیاں جن کے لئے مقدر ہوں یہی ہے تقدیر الہی۔یہ دکھ کی شکل میں آئیں یا آرام کی شکل میں آئیں دونوں طرح یہ حسن ہی حسن ہیں ان کے سوا تم ہمیں کچھ نہیں دے سکتے لیکن ہم جو تمہارے متعلق خطرہ رکھتے ہیں وہ اور ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے عذاب کا خطرہ ہے۔پس وہ لوگ وہ بیچارے بیوقوف اور جاہل جو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کے نام پر جو قو میں کھڑی ہوتی ہیں اور خالصہ اللہ دنیا کے مصائب برداشت کرنے کے لئے ایک غیر معمولی عزم اور حوصلہ پاتی