خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 216 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 216

خطبات طاہر جلد ۸ 216 خطبہ جمعہ ۷۷ اپریل ۱۹۸۹ء تمام بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہے۔وَبَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدی صرف اس میں عام ہدایت ہی نہیں بلکہ بہت کھلی کھلی اور غیر معمولی شان رکھنے والی ہدایت بھی موجود ہے۔وَ الْفُرْقَانِ اور ایسی ہدایت ہے جو کھوٹے کھرے میں تمیز کرنے والی ہے۔سچ کو جھوٹ سے نکھارنے والی ہے، روشنی کو اندھیروں سے ممتاز کر کے دکھانے والی ہے۔گو یا ہدایت کا کوئی پہلو ایسا باقی نہیں جو قرآن کریم میں موجود نہ ہو اور یہ ہدایت رمضان شریف میں اتاری گئی۔جیسا کہ پہلے بھی اس سے متعلق میں روشنی ڈال چکا ہوں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام قرآن کریم رمضان مبارک کے مہینہ میں ہی نازل ہوا اور مکمل طور پر ایک ہی مہینے میں اس مبارک کلام کا نزول ہوا بلکہ مراد یہ ہے ( یعنی بہت سی باتوں میں سے ایک یہ بھی مراد ہے ) کہ رمضان مبارک میں اس وحی کا آغاز ہوا ہے اور پھر رمضان مبارک میں جتنا جتنا قرآن کریم نازل ہوتا رہا اس کی باقاعدہ دہرائی ہوتی رہی اور ہر اگلے رمضان میں جب قرآن کریم کا آغاز ہوا ہے اس کے بعد جبرائیل علیہ السلام آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور اس وقت تک جتنی وحی نازل ہو چکی ہوتی تھی اسے دہراتے تھے۔( بخاری کتاب فضائل القران حدیث نمبر :۴۶۱۴) اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ شروع ہی سے قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ترتیب کا ایک دور جاری تھا اور وہ ساتھ ساتھ ہوتی چلی جا رہی تھی۔پھر آخر یہ جب قرآن کریم مکمل ہوا ہے تو جو رمضان بھی اس کے بعد آیا ہے اس میں مکمل قرآن کریم ایک ہی مہینے میں دہرایا گیا۔ایک تو یہ مطلب ہے اس آیت کا۔دوسرا اس کا مطلب یہ ہے کہ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ رمضان وہ مہینہ ہے جس کے بارے میں قرآن کریم اتارا گیا ہے۔اب یہ بڑا ایک انوکھا اور عجیب سا مضمون ہے۔قرآن کریم کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں دنیا جہان کے ہر قسم کے مسائل جن سے انسان کو دلچسپی ہو سکتی ہے یا دلچسپی نہ بھی ہو تو انسان کے لئے ضروری ہیں وہ بیان فرما دیئے گئے ہیں۔تو انسانی مسائل پر جو کتاب محیط ہو اور اس کا کوئی پہلو بھی ادھورا نہ چھوڑے اس کے متعلق یہ کہنا کہ ایک مہینے کے بارے میں نازل کی گئی ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے میری توجہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کے ایک ارشاد کی طرف مبذول ہوئی جس میں آنحضور علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان دنیا میں جتنی بھی نیکیاں کرتا ہے یا دوسرے اعمال بجالاتا ہے وہ اپنی خاطر کرتا ہے لیکن روزے الله