خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 217 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 217

خطبات طاہر جلد ۸ 217 خطبہ جمعہ ۷ اپریل ۱۹۸۹ء میری خاطر رکھتا ہے اور روزے کی جزا میں خود ہوں۔یہ حدیث ہے حضرت ابو ہریرہا کی روایت اورصحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل الصیام سے لی گئی ہے۔آپ فرماتے ہیں روزہ کے علاوہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہوتا ہے۔صرف روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا ہوں۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ایک مسئلہ حل کرنے کے لئے میری توجہ جس ارشاد نبوی کی طرف مبذول ہوئی وہ اپنی ذات میں بھی ایک مسئلہ پیش کر رہا ہے اور خیال کو ایک دعوت دیتا ہے فکر کی کہ آخر یہ فرق کیوں دکھایا گیا ہے۔ہر عبادت انسان کی اپنے لئے ہے اور صرف روزہ خدا کے لئے۔اس کا کیا مطلب ہے؟ میرے نزدیک اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرآن کا مضمون اس حدیث میں بیان ہوا ہے اور اب میں آپ کو فرق بتا تا ہوں کہ وہ کیا فرق ہے جس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے باقی ساری عبادات کو یا حکم کی بجا آوری کو یا مناہی سے رکنے کو انسان کے اپنے لئے قرار فرمایا اور روزے کی عبادت کو خالصہ اپنے لئے مقرر فرمایا۔اگر آپ غور کریں تو خواہ وہ عبادتیں ہوں یا بعض اعمال کے کرنے کے احکام ہوں یا بعض برائیوں سے رکنے کا ارشاد ہو ان تمام امور کا بنی نوع انسان کے فائدے سے تعلق ہے اور ایک بھی حکم ایسا نہیں جو زائد ہوان معنوں میں کہ انسان کو اس کی ضرورت نہیں لیکن محض خدا کی خاطر وہ بجالائے۔چنانچہ جتنی چیزیں حرام ہیں ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں جس کی حرمت توڑنے کے نتیجے میں انسان کو نقصان نہ ہو۔جتنی چیزیں فرمائی گئی ہیں کہ تمہیں کرنی چاہئیں خواہ وہ عبادات سے تعلق رکھتی ہوں یا معاملات سے تعلق رکھتی ہوں وہ تمام کی تمام بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے ہیں۔تو اس حدیث نے ایک عظیم الشان مضمون ہمارے سامنے کھول دیا۔یہ غور کرنے کے لئے کہ جتنی بھی عبادات ہیں یا احکامات ہیں یا بعض باتوں سے رکنے کے متعلق ارشادات ہیں ان تمام چیزوں کا بنی نوع انسان کے فوائد سے تعلق ہے اور جہاں بھی آپ ان میں سے کسی سے اعراض کریں گے کسی حکم کو توڑیں گے اس کی بجا آوری میں غفلت کریں گے وہاں بنی نوع انسان کے لئے کوئی نہ کوئی دکھ کا سامان پیدا کر دیں گے۔اس پہلو سے جب میں نے غور کیا تو میں حیران رہ گیا کہ ایک بہت ہی عظیم الشان تفصیلی مضمون ہے کہ قرآن کریم کے احکامات اور سنت نبوی کی تشریحات میں ایک ادنی سی چیز بھی ایسی معلوم نہیں