خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 194

خطبات طاہر جلد ۸ 194 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء اس پر جماعت کو کیا ردعمل دکھانا چاہئے۔اس لئے میں اپنے خطبے کو اس ذکر پر خواہ وہ تکلیف دہ ذکر ہی کیوں نہ ہو ختم کروں گا۔کچھ عرصہ نہیں تقریباً تین چار دن پہلے مجھے ربوہ سے فون کے ذریعہ یہ پیغام موصول ہوا۔ناظر صاحب امور عامہ یہ پیغام دے رہے تھے کہ کمشنر سرگودھا ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر جھنگ اور پولیس کے بڑے اور چھوٹے تمام افسران اکٹھے ہو کر ربوہ اس غرض سے تشریف لائے کہ ربوہ کے جو چیدہ چیدہ سربراہ تو نہیں کہہ سکتے لیکن ربوہ کے منتظمین یا مختلف افسران جور بوہ کی نمائندگی کر سکتے ہیں ان کو ایک پیغام دیں اس نیت کے ساتھ تشریف لائے۔ان کو اکٹھا کیا گیا اور پیغام یہ تھا کہ آپ کو اس صدی کے اختتام پر اور نئی صدی کے آغاز پر کسی قسم کے کوئی جشن منانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔نہ جلوس کی اجازت دی جائے گی، نہ جلسے کی اجازت دی جائے گی، نہ بتیاں روشن کرنے کی اجازت دی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا کہ آپ لکھ کر یہ پیغام دیں جب تک حکومت کی طرف سے تحریری حکم نامہ نہیں ملے گا ہم اس کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے اور پھر جو کچھ بھی ہوگا اس کی آپ پر ذمہ داری ہے۔چنانچہ اس پر کمشنر نے ان سے وعدہ کیا کہ میں کل یہ پیغام لکھ کر بھجوا دوں گا۔ان کا اندازہ یہ تھا کہ اس تحریری پیغام میں تا خیر اس لئے کی جارہی ہے تا کہ جماعت عدالت کی طرف رجوع نہ کر سکے اور آگے جو رھتیں آرہی ہیں ان سے حکومت فائدہ اٹھا لے اور جب تک عدالت تک جماعت پہنچے اس سے پہلے پہلے یہ دن گزرچکے ہوں۔اتنا ان کی طبیعت پر بوجھ تھا اور اتنا آواز میں غم تھا کہ بات کرتے ہوئے آواز لرز رہی تھی۔مجھے اس سے بڑی فکر پیدا ہوئی اور میں نے ان سے کہا کہ دیکھیں آپ ہر گز اس طرز میں مجھ سے بات نہ کریں اور میں آپ کو باقاعدہ ایک یہ پیغام دیتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہو آپ نے اپنے حوصلے کا سر بلند رکھنا ہے اور قطعاً ان لوگوں سے مرعوب نہیں ہونا۔چنانچہ میں نے ان کو پھر اس فون کے بعد یہ پیغام بھجوایا کہ ایک سوسال کے خدا تعالیٰ کے بے انتہا احسانات ہیں جو جماعت پر نازل ہوئے ہیں اس کے نتیجے میں جو خوشیاں دلوں سے پھوٹ رہی ہیں ان کو دنیا کی کوئی طاقت دبا نہیں سکتی۔اس لئے آج میرا آپ کو پیغام یہ ہے کہ آپ نے لازماً خوش رہنا ہے جو کچھ سر پر گزرے آپ نے اپنی خوشی کو مغلوب نہیں ہونے دینا۔میں نے ان سے کہا کہ جب میں ربوہ سے روانہ ہو رہا تھا تو میں نے آپ سے ایک وعدہ لیا تھا اور وہ وعدہ