خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 195
خطبات طاہر جلد ۸ 195 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء ا یہ تھا کہ آپ اس غم کو مرنے نہیں دیں گے اور ہمیشہ اس غم کو تازہ رکھیں گے۔اس وعدے کو آج آپ بھول جائیں، آج میں آپ سے ایک نیا وعدہ لینا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں نے جو جماعت کو خوشیاں دی ہیں آپ ان خوشیوں کو زندہ رکھیں اور کسی ظالم کو اجازت نہیں دیں گے کہ اس کے پنجے آپ کے دلوں سے ان رحمتوں کی خوشیوں کو چھین لیں۔آپ کو نئے کپڑے پہنے کی اجازت نہیں تو پھٹے پرانے بوسیدہ کپڑوں میں بازاروں میں پھریں اور خوشیوں سے آپ کے چہرے دمک رہے ہوں۔آپ کے وجود کا ذرہ ذرہ ان دشمنوں کو نا کام اور نا مراد کر رہا ہو اور ان کو کہہ رہا ہو کہ ہماری مقدس خوشیوں تک پہنچنے کی تمہارے بہیمانہ پنجوں کو اجازت نہیں دی جائے گی۔پھر دیکھیں یہ لوگ کس طرح آپ کو نا کام اور نامراد کر سکتے ہیں کوئی دنیا کی طاقت آپ کو نا کام اور نامراد نہیں کر سکتی۔خدا کے فضلوں کی خوشیاں کوئی دنیا میں روک سکتا ہے، خدا کے رحمتوں کی خوشیاں کوئی دنیا میں روک سکتا ہے؟ چنانچہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں ایک بالکل نئی فضا پیدا ہوگئی اور پنجاب میں جہاں جہاں یہ پیغام پہنچا وہاں بہت سے شہروں میں تو انہوں نے اس بات کی بھی پرواہ نہیں کی کہ کوئی ہمیں قید کرتا ہے مارتا ہے گلیوں میں گھسیٹتا ہے، گالیاں دیتا ہے انہوں نے خوب جشن منائے۔ربوہ کی تو دوسری حیثیت کے پیش نظر اگر چہ وہاں بتیاں تو نہیں جل سکیں لیکن میں نے ان سے کہا کہ اتارنی آپ نے نہیں ہیں۔یہ دن ایسا ہے یعنی ۲۳ / مارچ کا دن کہ جس دن یہ ساری قوم مجبور ہوگئی ہے بتیاں جلانے پر اور خوشیاں منانے پر کیونکہ خدا کی تقدیر نے اس دن کو یوم پاکستان بنا دیا ہے۔اس لئے ان گھروں کی بتیاں احمدیت کی خوشیاں منارہی ہوں گی خدا کی نظر میں اور وہ بتیاں جو ان کو نظر نہیں آتیں جلتی ہوئی آپ کے گھروں پر وہ خدا کی نظر میں سب سے زیادہ روشن قرار دی جائیں گئیں اور ایسا ہوتا ہے، خدا کی تقدیر میں ایسا ہوتا آیا ہے۔اس لئے احمدیت کو دنیا کی کوئی طاقت ناکام اور نا مراد نہیں کر سکتی یہ بات یاد رکھیں۔ہمارے لئے خوشیوں کے دن آئے ہیں اور خوشیوں کے دن بڑھتے چلے جائیں گے ہمارے لئے۔ہمارے لئے خوشیاں ایسی مقدر ہو چکی ہیں جو ہماری راتوں کو بھی دن بنا دیں گیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں ایک ذرہ بھی مجھے اس بات میں شک نہیں کہ نئی صدی احمدیت کے لئے نئی نئی خوشیاں لے کر آنے والی ہے۔پس خوشی سے اچھلو اور کو دو اور خدا کی رحمتوں پر شکر کے لئے اور تیاری کرو۔اپنے شکروں کے معیار کو اور زیادہ بڑھاؤ کیونکہ ہم نے تو آج خدا تعالیٰ کے گزشتہ