خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 193
خطبات طاہر جلد ۸ 193 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس کامیابی کے ساتھ اسلام کی جنگیں دنیا کے مختلف ممالک میں لڑی جانے والی ہیں۔آپ کا ہتھیار تقویٰ کا ہتھیار ہے اس کے سوا کوئی اور ہتھیار نہیں ہے جو آپ کے ہاتھوں میں تھمایا گیا ہے۔دعا کا تقویٰ کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔آسمان سے جو اعجا ز نازل ہوا کرتے ہیں اُن کا براہ راست تقویٰ کے معیار سے تعلق ہوا کرتا ہے۔پس اپنے تقویٰ کا معیار بلند کریں اور وہ زادراہ لیں جو ایک سو سال تک آئندہ نسلیں کھاتی رہیں۔اس لئے آئندہ صدی میں کیا ہونا ہے؟ اس کا فیصلہ آج کے احمدیوں نے طے کرنا ہے، ان کے دلوں نے کرنا ہے، ان کے اخلاق نے کرنا ہے، ان کے نیک اعمال نے کرنا ہے اور ان کے ان فیصلوں اور عزائم نے کرنا ہے کہ ہر صورت میں ہم نے اپنی بدیوں کو جھاڑنا ہے اور نیکیوں کو اختیار کرنا ہے اور نیکیوں کی حفاظت کرنی ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت تقویٰ کے ایک نئے معیار پر نئی صورت میں اُبھرے گی اور نئی شان کے ساتھ دنیا کے سامنے ظاہر ہوگی۔ایسی شان کے ساتھ ظاہر ہوگی کہ وہ دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر دے۔آپ کی زبانوں میں وہ طاقت نہیں ہے دنیا کو تبدیل کرنے کی جو آپ کے خاموش تقویٰ میں طاقت ہے۔تقویٰ وہ قوت رکھتا ہے جو بغیر زبان میں ڈھلے عظیم الشان تبدیاں پیدا کر سکتا ہے۔پس اپنے تقویٰ کے معیار کو بڑھائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہوئے ، اس پر تو کل کرتے ہوئے اس عزم کے ساتھ داخل ہوں کہ جو کمزوریاں سرزد ہو چکیں وہ ماضی کا حصہ بن جائیں ، ڈرونی خوابوں کی طرح پیچھے رہ جائیں اُن کی تعبیر میں بھی آپ نہ دیکھیں اور آج آپ نے جو نئے عزائم باندھے ہیں اسلام کی ترقی کے لئے اور اسلام کی سر بلندی کے لئے جو آپ پیاری پیاری خوا ہیں دیکھ رہے ہیں ان کی عظیم الشان تعبیریں دنیا میں ظاہر ہوں اور خدا آپ کو توفیق دے کہ اپنی آنکھوں سے ان تعبیروں کو دیکھیں اور دیکھتے دیکھتے تمام دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو اور ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہمارے دل تراوت حاصل کریں ان باتوں سے۔یہ ہے ایک احمدی کا تصور جسے ہم نے اس صدی میں پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے۔یہ ذکر آج کا ذکر ایسا نہیں کہ جس میں غم کی بات کی جائے اور ایسی بات کی جائے جس سے دل پر کسی طرح میں آئے لیکن آپ سب نے پنجاب میں ہونے والے ایک حکومت کے حکم نامہ کا ذکر سنا ہوا ہے اور بہت سے ایسے ہوں گے جو توقع رکھتے ہوں گے کہ میری زبان سے سنیں کہ وہ کیا واقعہ ہوا اور