خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 164 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 164

خطبات طاہر جلد ۸ 164 خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۸۹ء ہوتی ہے اس کا جائزہ لینا چاہئے کیسی طلب ہے؟ اور دکھ نیکی نہ کرنے پر زیادہ ہوتا ہے کہ بدی نہ کرنے پر زیادہ ہوتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جوں جوں انسان کا شعور بڑھتا چلا جاتا ہے یہ نسبت بدلتی جاتی ہے۔ایک لاعلم انسان جو غفلت کی حالت میں زندگی بسر کرتا ہے اس کو بسا اوقات گناہ نہ کر سکنے کا صدمہ زیادہ ہوتا ہے اور نیکی نہ کر سکنے کا صدمہ کم ہوتا ہے۔بچے نماز نہیں پڑھتے اور صبح کی نماز میں نہیں اُٹھتے شاذ ہی ایسے ہوں گے جن کو صدمہ ہوا ہو لیکن جب بڑے ہونے شروع ہوتے ہیں جب شعور بیدار ہوتا ہے تو پھر رفتہ رفتہ احساس بڑھنے لگتا ہے پھر بعض لوگ دعاؤں کے خط بھی لکھنے لگ جاتے ہیں کہ اور تو نمازیں پڑھ لیتے ہیں لیکن صبح کے وقت آنکھ نہیں کھلتی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کی بھی توفیق بخشے۔پھر اور زیادہ شعور بیدار ہوتا ہے تو پھر اس کا غم لگ جاتا ہے پھر واضح طور پر توجہ پیدا نہیں ہوتی بلکہ واقعہ غم لگ جاتا ہے اور جب غم لگتا ہے تو پھر خدا کی تقدیر ایسے لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دفعہ ایک بزرگ کے پاس اس وقت شیطان آیا جب ان کی نیند بڑی گہری تھی اور بڑے مزے لے کر سورہے تھے۔اُٹھنے لگے عادتاً تہجد کے وقت جیسا کہ اُن کو عادت تھی مگر اُس وقت شیطان نے کچھ ایسا پھسلایا کہ ان کی دوبارہ آنکھ لگ گئی اور پھر سورج نکل آیا اور ان کو ہوش ہی کوئی نہیں تھی۔تہجد کا تو کیا ذ کر با وقت صبح کی نماز بھی نہیں پڑھ سکے۔اس پر اتنا بڑا صدمہ محسوس کیا کہ سارا دن روتے رہے، ساری رات روتے روتے اُن کی آنکھ لگ گئی اور تھکے ہوئے نیند کے غلبے سے مجبور سوئے تھے لیکن اچانک انہوں نے آواز سنی کہ بھائی نماز کے لئے اُٹھو، نماز کے لئے اُٹھو۔بھائی کا لفظ تو نہیں یہ تو ویسے محاورے سے نکل گیا لیکن یہ آواز سنی کہ نماز کے لئے اٹھو، نماز کا وقت ہو گیا ہے۔آنکھ کھلی دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔انہوں نے کہا تم کون ہو مجھے جگانے والے۔اس نے کہا میں شیطان ہوں۔انہوں نے کہا شیطان مجھے نماز کے لئے جگانے کے لئے آئے ہو۔اس نے کہا میرا کام تو لوگوں کو دکھ دینا ہے اور نیکیوں سے محروم کرنا ہے۔کل میں نے تمہیں ایک نماز سے محروم کیا تھا لیکن تمہاری گریہ و زاری کو خدا نے ایسا پسند فرمایا ہے کہ تمہارے کھاتے میں ہزاروں نمازیں لکھ دی گئیں تو میں تو نیکیوں سے محروم کرنے والا شیطان ہوں نیکیوں کی عادت ڈالنے والا تو نہیں ہو۔نیکیوں کے اسباب بنانے والا تو نہیں ہوں اس لئے آج میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں